یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے متعلق بڑا فیصلہ آگیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سینیٹر یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے متعلق تحریک انصاف کی تمام درخواستوں کو خارج کردیا۔ رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر گیلانی، رکن قومی اسمبلی فہیم خان اور کیپٹن جمیل کے خلاف کرپٹ پریکٹسز کے تحت کارروائی کا حکم دے دیا۔

الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن کے دوران سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا،الیکشن کمیشن نے سینیٹریوسف رضا گیلانی کیخلاف براہ راست کوئی شواہد نہ ہونے پران کے خلاف تمام درخواستیں خارج کردیں۔الیکشن کمیشن نے علی حیدر گیلانی، فہیم خان اور کیپٹن جمیل کے خلاف کرپٹ پریکٹسزثابت ہونے پرڈسٹرکٹ الیکشن کمشنراسلام آباد کوفوجداری کارروائی کا حکم دیا،کرپٹ پریکٹس کی سزا تین سال قید، ایک لاکھ جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنرکا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کیخلاف براہ راست کوئی شواہد نہیں۔ اس کیس کے بارے میں حقائق ٹھیک پیش نہیں کیے گئے۔کیس سے متعلق حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کیس کی 20 سماعتیں کیں، درخواست گزاروں کی جانب سے 12 بار التوا کی درخواستیں دائرکی گئیں۔ 5 اپریل کوفیصلہ محفوظ کیا، مختلف فورمز پر کہا گیا کہ ایک سال سے فیصلہ محفوظ ہے، ان کیلئے شاید ایک ماہ ایک سال کے برابر ہے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنمائوں فرخ حبیب، ملیکہ بخاری، کنول شوذب اور عالیہ حمزہ نے درخواستیں دائر کی تھیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس سینیٹ الیکشن سے قبل یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں وہ کچھ اراکین اسمبلی کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہے تھے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More