پی ٹی آئی منحرف ارکان سے متعلق کیس کاتحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد: الیکشن کمیشن پاکستان نے تحریک انصاف پنجاب کے 25 منحرف اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کاتحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلہ 23 صفحات پر مشتمل ہے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی روشنی میں فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا۔ منحرف اراکین اسمبلی تاحیات نااہلی سے بچ گئے تاہم الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ کےانتخاب میں مخالف امیدوار کو ووٹ دیا۔مخالف امیدوارکو ووٹ ڈالنے سے انحراف ثابت ہو گیا۔منحرف ارکان کے خلاف ڈکلیریشن کو منظور کیا جاتا ہے۔ منحرف اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم ہو گئی۔ اب یہ نشستیں خالی ہو گئیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس ریفرنس سے متعلق دو آپشن تھے۔ارکان کو 63 اے کی شرائط پوری نہ ہونے پر مسترد کرنا ہی آپشن تھا جبکہ دوسرا آپشن تھا مخالف سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی کہا گیا امیدوار کو ووٹ ڈالنا سنگین معاملہ ہے۔

فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کی رائے ہی کہ ارکان کا مخالف امیدوار کو ووٹ ڈالنا ایک سنگین معاملہ ہے۔ مخالف امیدوار کو ووٹ دینے پارٹی پالیسی سے دھوکا دہی کی بدترین شکل ہے۔الیکشن کمیشن اس نتیجہ پر پہنچا کہ انحراف کے معاملہ کا انحصار شرائط پر پورا اترنے کے معاملے پر نہیں ہو گا۔

الیکشن کمیشن نے جن 25 منحرف اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کیا ہے ان میں صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگھا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر احمد چوہان، محمد امین ذوالقرنین، ملک نعمان لنگڑیال، محمد سلمان، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز شامل ہیں۔

ڈی سیٹ ہونے والوں میں میں ساجدہ یوسف، ہارون عمران گِل، عظمیٰ کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم، فیصل حیات شامل ہیں۔ ان میں سے متعدد اراکین کا تعلق جہانگیر ترین گروپ، علیم خان گروپ اور اسد کھوکھر گروپ سے ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More