حیدرآباد پکا قلعہ سانحہ: کیا عدالتی کمیشن بننا چاہئے؟

امتیاز چانڈیو
بیورو چیف اب تک کراچی

Twitter @imtiazchandyo

اب تک نیوز گذشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادارات کی نااہلیوں، گٹھ جوڑ، 18 ارب سے زائد فنڈز میں کرپشن کو دستاویزاتی ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کرتا آ رہا ہے، جس کی پاداش میں اب تک نیوز اور ان کی ٹیم بشمول میرے اور اینکر کے درجنوں جھوٹے مقدمات، شکایات اور کورٹ کیسز کا سامنا کرنا پڑا لیکن جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے اس لیے اب تک نے ہر فورم اور معزز عدالتوں میں ان تمام معاملات کا نہ صرف سامنا کیا بلکہ بہت بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں کیونکہ سندھ کے آثار قدیمہ کے نام پر کناسرو برادرز المعروف کناسرو سسٹم نے جو کرپشن کی وہ خود بخود سامنے آتی رہی اور اللہ تعالی ان کو شکست سے دوچار کرتا رہا کیونکہ محکمے کے اندر تین دہائیاں قبل معمولی ملازمتوں پر بھرتی ہونے والے کناسرو برادرز یعنی موجودہ ڈائریکٹر جنرل نوادرات منظور کناسرو، ان کے بھائی ڈائریکٹر روشن کناسرو نے ایک منظم منصوبابندی کے تحت اس محکمے کو یرغمال بنا کر رکھا۔ جس میں انہوں نے اپنی ٹیم میں ایک اکاونٹنٹ حاکم راہوجو اور ٹھیکیدار ولی اللہ بھٹو کو شامل کر کہ ایک ایسی ٹیم بنائی جس نے اندھادھند لوٹ مار کی۔ جعلی ٹھیکے دیئے اور ان ٹھیکوں کے عوض اربوں رپے کی کرپشن کر کہ اپنی جائیدادیں بناتے گئے جو لوگ لاڑکانہ میں رکشا چلاتے اور بیڑیاں باندھ کر گذر سفر کیا کرتے وہ کراچی کے ڈفینس کے مہنگے بنگلوں، دبئی کے لگزری اپارٹیمنٹس اور اسلام آباد کے فارم ہاوسز کے مالک بنتے گئے نہ صرف یہی بلکہ ان کے بچوں کے نام پر درجنوں فلیٹس اور قیمتی پلاٹس خریدی گیے۔ لاڑکانہ میں ایک اربوں رپے کا رہائشی منصوبہ تک شروع کیا گیا۔

انتہائی محتاط اندازے کے مطابق گذشتہ 10 برسوں میں محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات کے 18 ارب سے زائد ٹھیکوں میں ان کناسرو سسٹم کے کارندوں نے گھپلے کر کہ نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ بیرون ملک اثاثے بنائے۔ لیکن یہ لوگ اتنے غیرمعروف اور نظروں سے اوجھل تھے کہ کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ بظاہر سادہ دکھائی دینے والے لوگ کتنے تیز اور چالاک ہیں۔ جب پہلی بار اب تک نے اس معاملے کو اٹھایا تو پوری سندھ سمیت ملک کو معلوم ہوا کہ یہ کناسرو سسٹم کیا ہے؟ ان کی پنہچ کہاں تک ہے؟ انہوں نے وزیروں کو کیسے خریدا اور ان کو کمیشن کے نشے کا عادی کر کہ خاموش کروا دیا۔ اس لیے اوپر سے نیچے تک سب کے سب آنکھیں بند کر کہ سندھ کے تاریخی ورثوں کی تباہی کا تماشا دیکتھے اور کروڑوں روپے بٹورتے رہے۔ اس جدوجہد کی نتیجے میں کناسرو سسٹم کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، نیب کو درجنوں درخواستیں گئیں، اینٹی کرپشن کو نوٹس لینا پڑا اور یہاں تک کہ اب تک کے پروگرام بے نقاب میں پیش کیے گئے حقائق کا نیب چئرمین نے نوٹس بھی لیا۔۔جس کے نتیجے میں مردہ کیسز میں جان پڑی اور آج اربوں روپے کرپشن کرنے والا ڈائریکٹر روشن قناصرو ایک کیس میں جیل میں ہے اور باقی کے اوپر تحقیقات سست روی سے چل رہی ہیں۔

نیب کی سست روی کے بعد کناسرو سسٹم کے کالے کرتوت کھل کر سامنے آتے رہے۔ کچھ ماہ قبل پہلے ٹنڈو حیدر کی تاریخی مسجد کا اصل چہرا مسخ کر کہ چونا لگایا جس پر عالمی اداروں نے بھی رپورٹ کیا کہ سندھ کے اندر تاریخی ورثوں سے اناڑی لوگ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ان کا ماسٹر مائینڈ نان کیڈر ڈی جی منظور کناسرو، ان کے بھائی نیب ملزم روشن کناسرو اور ٹھیکیدار ولی اللہ بھٹو ہیں جس پر کئی مقدمات درج ہیں جب کہ مالی بے قائدگیوں کا ماسٹر مائینڈ حاکم راہوجو ہے جس کے پاس اب تک 80 کروڑ سے زائد پراپرٹی ہے۔ جو شخص ماضی میں سبزی بیچتا تھا وہ اب اربوں میں کھیل رہا ہے کیونکہ وہ کناسرو سسٹم اہم کارندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح ٹھیکیدار ولی اللہ بھٹو کناسرو برادرز کی تجوری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ صرف اسی ایک ٹھیکیدار کو 8 ارب سے زائد کے ٹھیکے دیئے گئے۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ نیب ملزم روشن قناصرو اور منظور کناسرو کے اربوں رپے کے اثاثوں کی چھان بین میں اینٹی کرپشن نے جو رپورٹ نیب کو ارسال کی اس میں بتایا گیا کہ یہ لوگ منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں اس لیے منی لانڈرنگ کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔

اب سندھ بھر میں کناسرو سسٹم کی نااہلیوں کا چرچہ جاری ہی تھا تو 2 ستمبر کو ایک بڑی خبر آئی کہ ٹھیکیدار ولی اللہ بھٹو کے مزدورں کے ہاتھوں پکے قلعے کا مرکزی دروازے کو نقصان پنہچا ہے۔ پہلی خبر یہ دی گئی کہ مرکزی دواراز دوران کنزوریشن ورک گر گیا پھر ایک وڈیو آئی کہ دروازا خود نہیں گرا بلکہ گرایا گیا کیونکہ اس میں مزدور ہتھوڑوں کے ساتھ اسے توڑ رہے تھے اس کے بعد ایک اور تحریری ثبوت آیا کہ اس مرکزی دروازے کو توڑنے کا فیصلہ خود محکمے نے کیا کیونکہ ان کے اناڑی انجنیئرز کا خیال تھا کہ وہ 300 سال قبل قدیم بنائے گئے دروازے کو مسمار کر کہ نیا بنا سکتے ہیں جبکہ اس سانحے پر وزیر ثقافت سردار شاہ اور ان کے دوست سیکریٹری اکبر لغاری بھی آنکھیں بند کر کہ بیان پر بیان دے رہے تھے کہ دروازا خود گر گیا لیکن ان کےجھوٹ پر جھوٹ پکڑے جاتے رہے کیونکہ ان کا مقصد ایک واقعے پر نااہلی کو نہ صرف چھپانا بلکہ کناسرو سسٹم کو بھی بچانا تھا، ورنہ قناصرو سسٹم ان کو نگل جاتا۔ وزیر ثقافت نے بونگیاں مارتے ہوئے ٹھیکیدار پر مقدما درج کرنے کا حکم دیا، لیکن اس کے ساتھ اہم ذمہ دار افسران کو بچایا گیا اور پولیس کو منع کیا گیا کہ وہ ٹھیکیدار ولی اللہ بھٹو کو گرفتار نہیں کرے گی۔ یہ تمام ڈرامے اس لیے کیے جاتے رہے تاکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہ اپنا پرانا کام جاری رکھیں جس سے وہ ارب پتی بن گئے۔

محکمہ نوادارات کے افسران نے ایک الزام ضلعی انتظامیہ حیدرآباد پر بھی لگیا کہ وہ انہوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ جس پر ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے ایک تفصیلی خط لکھا کہ یہ سب کچھ محکمے کی اپنی نااہلی، اناڑی یعنی غیر تربیت یافتہ ٹھیکیدار اور ان کے مزدوروں کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے سنگین الزامات عائد کیے۔ جس سے محکمہ ثقافت و نوادرات مزید بے نقاب ہوئے تاہم اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتیجا نہیں نکلا۔ اس وقت ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ساتھ اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ بھی منظر عام پر آگئی ہے جس نے اس پورے نیٹ ورک کو ایکسپوز کیا ہے۔ تاہم وزیر ثقافت سردار شاہ کی کناسرو سسٹم کو اس مسئلے سے نکالنے کی کوشش ثابت کر رہی ہے کہ وہ کناسرو سسٹم کے مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس لیے ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سندھ کے آثار قدیمہ تباھ ہوں یا برباد، وہ کناسرو برادرز اور ان کی مافیا کے خلاف اس لیے کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے کہ وہ خود اس سسٹم سے مستفید ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اثاثے گذشتہ چند برسوں میں کروڑوں سے نکل کر اربوں تک پنہچ چکے ہیں۔ لحاظہ موجود حالات میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے اور ایک عدالتی کمیشن یا انکوائری ٹیم بنانی چاہئے جو اس تاریخی سانحے کی تفیش کر کہ حقائق منظر عام پر لائے کہ آخر کیوں 300 سال قدیم اس دروازے کو توڑا گیا؟ کون اس کے ذمہ دار ہیں؟ کس نے یہ سب کچھ کیا؟ اگر ان کے ذمہ داران کو سزائیں نہیں ملیں تو پھر پورے سندھ کے اندر موجود آثار قدیمہ کو یہ لوگ تباھ و برباد کر کہ رکھیں گے اور ہم اپنی صدیوں پرانی تاریخ سے محروم ہوجائیں گے۔.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More