کورونا متاثر امریکا میں سیاحت کا آغاز اور پاکستان میں سیاحوں کے لیے مشکلات

امتیاز چانڈیو
بیورو چیف اب تک کراچی

Twitter @imtiazchandyo

کورونا وبا نے پوری دنیا کو جس خوف میں جکڑ رکھا ہے، اس کا اندازہ کوئی کر نہیں سکتا تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ پوری دنیا کورونا کی وجہ سے مکمل بند ہوجائے گی، زمینی، ہوائی اور سمندری راستے مکمل طور پر ویران ہوجائیں گے، دنیا کی معیشت سے لیکر سیاحت تک سب کچھ تباہ ہوجائے گا۔ ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ اس وبا سے نہ صرف متاثر ہوئے بلکہ اپنے روزگار اور کاروبار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بیروزگاری عروج پر پنہچ گئی، لوگ خودکشیوں پر مجبور ہوگئے۔ تنہائی اور ہو کا عالم جیتے جاگتے انسانوں کو کھانے لگا۔ یہ صورتحال صرف غریب ممالک میں نہیں تھی بلکہ ترقی یافتہ ملکوں کو بھی بڑا نقصان پنہچا. جن ملکوں میں سیاحت عام تھی، لاکھوں لوگ اپنے ملک یا بیرونے ممالک سفر کر کہ سیر تفریح سے لطف اندوز ہوتے تھے وہ بھی تقریبن دو سال تک گھروں میں قید ہی رہے۔ اس طرح کی صورتحال میں نہ صرف ان کے بزنس اور ملازمتوں پر اثر پڑا بلکہ وہ ذہنی دباو کا بھی شکار ہوئے جب ترقی یافتہ ممالک کا معاشی اور سماجی حال یہ ہو تو باقی ہمارے جیسے غریب ممالک کا حال کیا ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

کورونا کے اس بدترین وبا کی وجہ سے جہاں دوسرے شبعے متاثر ہوئے وہاں سب سے نقصان سیاحت کے شعبے کا ہوا۔۔ کیونکہ ہر سال کروڑوں لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک گھومنے جاتے تھے جس سے ان ممالک کی معیشت میں بھی استحکام تھا مگر دنیا بند ہوجانے کے باعث تھائی لینڈ، ملیشیا، سنگاپور سمیت تمام وہ ممالک جن کا انحصار سیاحت پر زیادہ ہوتا تھا وہاں معشیت کا برا حال ہوا، مقامی لوگوں کے روزگار کو شدید دھچکا پنہچا کئی کاروبار بند ہوئے سیاحت سے منسلک ہوائی صعنت اور ہوٹلنگ سمیت دیگر شعبے بھی بند ہوگئے۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں ہمارے ملک کے لوگوں کو آسانی سے ویزے ملتے ہیں اور وہ گھومنے پھرنے جا سکتے ہیں وجہ یہی تھی کہ کورونا ویکسین کی تیاری میں بڑی دیر ہونے لگی۔ یہ ویکسین کئی تجربات سے گذر کر اب دنیا میں پنہچ چکی ہے جس سے اب دوبارہ دنیا میں رنگینیاں بحال ہونے کے امکانات ہیں۔

اس سے قبل کہ مکمل سیاحت بحال ہو، حال ہی میں امریکا میں مختلف ریاستوں نے اپنے اپنے علاقوں میں کورونا سختیوں کو ختم کرنا شروع کیا ہے۔۔ ٹیکساس ریاست کے گورنر نے ریاست کے اندر ماسک پہننے کی پابندی کو تقریبن ختم کردیا ہے کیونکہ امریکا کے اندر تقریبن 70 فیصد سے زائد آبادی نے ویکسئین لگوا لی ہے جو افراد مکمل ویکسنیڈڈ ہیں ان کو کہا گیا ہے کہ وہ عام جگہوں پر ماسک نہ پہنے تو کوئی مسئلا نہیں اور جن لوگوں نے ویکسئین نہیں لگوائی وہ خود ماسک پہنے اور احتیاط برتیں جبکہ امریکا کے اندر نیویارک سمیت دیگر کئی ریاستوں نے بھی یہی فیصلے کرنا شروع کیے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کی ٹوئرازم انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہوچکی ہے نہ صرف یہ صنعت بلکہ ان کے لوگ بھی ذہنی دباو کا شکار ہو چکے ہیں وہ اپنی پرانی زندگی کو جیسے کہ بھول چکے ہیں۔ کیونکہ امریکا میں رہنے والے غریب ہوں یا امیر سب کے سب سیاحت کا زوق رکھتے ہیں ۔ وہ ہفتے میں جتنا کماتے ہیں اتنا ہفتے میں خرچ بھی کر لیتے ہیں۔ فیملیز کو لیکر بیچز پر جا کر رہنا، خیموں میں راتیں گذارنا یا پھر آر وی لاد کر کہیں شور غل سے دور چلے جانے ان کے محبوب مشغلوں میں شامل ہے۔ جتنی سیاحت وہ کرتے ہیں اتنا ہم نہیں کر سکتے۔ جس کی وجہ سے امریکا میں ہر سال کروڑوں وزیٹر جاتے ہیں۔ جو کورونا کی وجہ سے نہیں جا رہے تھے لیکن حال ہی میں میں نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن، سین اینتونیو، گیلوسٹن سمیت کئی شہروں میں گیا تو وہاں مجھے محسوس نہیں ہوا کہ کورونا اب باقی رہا ہے کیونکہ وہاں بڑے پیمانے پر سیاحتی مقامات کو کھول دیا گیا ہے۔ جبکہ ماسک پہننے کی شرائط صرف ایئرپورٹس، ائیرلائنز اور چند مالز کے علاقہ باقی کہیں نہیں رہی۔

اس کے علاوہ ائیرلائن انڈسٹری میں بھی جان پڑ رہی ہے انہوں نے بھی اچانک ٹکٹس مہنگی فروخت کرنا شروع کی ہیں۔ چند ہفتے قبل جو ٹکٹ دس ہزار کی تھی اب وہ تیس سے چالیس ہزار تک جا پنہچی ہے۔ جبکہ ہیوسٹن کے علاوہ پینسلوینیا سے لیکر نیاگرا فال تک ہزاروں کلومیٹر سڑک کے ذریعے سفر کیا وہاں بھی اس طرح کی رونقیں بحال ہوتے دیکھیں۔ نیاگرا فال کا ایک حصہ کینیڈا کی طرف ہے تو بند تھا تاہم امریکا کی سائیڈ کو مکمل کھول دیا ہے جس کی اہم وجہ یہی ہے کہ امریکا کے شہریوں کو دوبارہ پرانی زندگی کی طرف لوٹانا ہے جبکہ یکم جولائی کو نیویارک شہر کے تمام بزنسز کو بھی کھولا جا رہا ہے۔ جو مارکیٹس شام سات بجے بند ہوجاتی ان کو اب دیر تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جا رہی ہے جس سے یہ امکانات واضع ہو رہے ہیں کہ اب دنیا کورونا کو بھولنے لگی ہے بہت جلد وہ رونقیں لوٹ آئیں گی جو مانند پڑ گئی تھی مگر دوسری طرف جب اپنے ملک کے حالات دیکھتے ہیں تو ابھی تک ہم ترقی یافتہ مماملک کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے تاہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان بار بار سیاحت کو فروغ دینے پر زور دے رہے ہیں ، مگر عملی طور پر اس طرح کے اقدامات نظر نہیں آ رہے سندھ کا حال تو انتہائی برا ہے جہاں سیاحت اور ثقافت کو دیمک چاٹ رہی ہے مگر اس باوجود جو لوگ بیرونے ملک پاکستان آ رہے ہیں ان پر اتنی زیادہ شرائط لاگو کی گئی ہیں کہ اب وہ آنا بھی نہیں چا رہے، جس کی مثال صرف یہ ہے کہ پاکستان آنے والے افراد پہلے ائیرپورٹس پر کورونا ٹیسٹ کروا کر پنہچتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ آپ فاسٹ ٹریک ایپ پر خود کو رجسٹرڈ کروائیں ورنہ بورڈنگ پاس نہیں ملے گا جب وہ خود کو رجسٹرڈ کرتے ہیں تو پھر جب وہ پاکستان پہنچتے ہیں تو پھر ان سے فارم بھروایا جاتا ہے پھر ٹیسٹ کروایا جاتا ہے جس میں نہ صرف ان کا وقت ضایع ہوتا ہے بلکہ پریشانی بھی بڑھتی جاتی ہے حکومت کو چاہئے جب دوسرے ممالک سے آنے والے لوگ 100 فیصد تصدیق ہونے کے بعد جہاز میں سوار ہونے کے قابل ہوتے ہیں کہ انہیں کورونا نہیں تو پھر کس بات کا مسئلا ہے اس طرح حکومت اپنے اوپر زیادہ بوجھ ڈال کر مسافروں اور سیاحوں کو روک رہی ہے کہ وہ ٹریول نہ کریں، کیونکہ ایپ میں فارم فل کرنا بھی بڑا عذاب ہے۔ لحاظہ حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ سیاحت کے فروغ کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح شرائط نرم کرنا شروع کرے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More