ہمیں اعتراض نہیں کرنا چاہیے کون سا ادارہ کیا کررہا ہے، اعظم سواتی

اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے پی ڈی ایم کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انھیں تحریک عدم اعتماد اتنا ہی شوق ہے تو عدم اعتماد کی تحریک بھی لے آئیں تاہم ناکامی ان کا مقدر ہوگی ۔

اسلام آباد میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے وزیرریلوے اعظم خان سواتی نے کہا کہ کھلاڑی جب میدان میں نکلتا ہے تو اس کا عزم ہوتا ہے کہ وہ جیتے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک زبردست کھلاڑی کی طرح اندرون و بیرون ملک سیاسی ورلڈکپ جیت کر قوم کو بڑی خوشی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے اب اس لیے اٹھ رہا ہے ہر شخص کو اپنی نوکری کا پتا ہو گا۔ ریلوے میں تیل کی چوری، فریٹ کے ڈبے کہاں گئے ٹیکنالوجی کے ذریعے سب پتہ چلے گا ۔اعظم سواتی نے دعوای کیا کہ 1970کے بعد پاکستان کی سیاست سے سیاہ باب مٹنے کے لیے جارہا ہے۔

اعظم سواتی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کل جو بدتمیزی کی گئی اس کی مذمت کرتا ہوں۔ اعتزاز احسن کی یہ بات درست ہے کہ ہم بیرون ملک پاکستانی سے پیسے تو لیتے ہیں لیکن انھیں ووٹ کا حق نہیں دیتے ۔

وزیراعظم کی زیر صدارت جتنی قانونی مشاورت ہوتی ہے اس میں موجود ہوتا ہوں ایسی کوئی قانونی یا آئینی شق نہیں ہے جو ہمارے پاس کیے ہوئے بل میں ہو اور وہ اسے عدالت میں چیلنج کر سکیں۔ ترقی،جمہوریت کا کاررواں عمران خان کی قیادت میں چلے گا ۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنی موت مر گئی ہے ۔ان کا ایجنڈہ الیکشن میں دھاندلی کرنا تھا ۔ ای وی ایم کے لیے طریقہ کار بنائیں گے اس کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے ۔ادارے ملک پاکستان کے ہیں اور انہوں نے ملک کے لیے قربانیاں دی اور آج بھی دے رہے ہی ۔ ہمیں اعتراض نہیں کرنا چاہیے کون ادارہ کیا کر رہاہے۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ کلبھوشن بہت بڑا جاسوس ہے یہ قانون اس کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ انصاف کے تقاضوں کے ہیے بنایا گیا ۔ بین الاقوامی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کلبھوشن یادیو جیسے مجرم کو سزا ملے گی۔ نواز شریف اور انکی پارٹی کلبھوشن کا تو نام بھی نہیں لیتے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن کے دو ممبرز کا انتخاب ہمارے ہاتھ سے ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن میں پیش ہونا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔ الیکشن کمیشن کے ممبران میرے بھائی ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More