ہمیں 18 ویں ترمیم کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے، عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد بہت سے مسائل سامنے آئے ۔صوبوں اور وفاق کے درمیان اختیارات تقسیم ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے سابق سفراء اور صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہماری معیشت درست سمت میں ہے لیکن ملک میں اشیا کی قیمتیں یکساں ہونی چاہئیں۔ ہمیں 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ سندھ میں اور پنجاب میں گندم الگ الگ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ ایک ملک میں گندم کی قیمت ایک ہی ہونی چاہیے۔ چین میں ایک فیصلہ ہو جاتا ہے تو سب جگہ عمل درآمد ہوتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا میں اور میری ٹیم اپنی ڈائریکشن پر بہت کلیئر ہیں۔ ملک میں بہت سی ریفارمز کی ضرورت ہے لیکن اگر آپ ریفارم کرنا نہیں چاہتے تو سب کو خوش کر سکتے ہیں۔ بل پاس کرانے کے لیے اکثریت کی ضرورت ہے ہم قومی اسمبلی سے بل پاس کراتے ہیں تو سینیٹ میں پھنس جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا نقشہ تیزی سے بدلتا جا رہا ہے۔چین سے تعلقات موجودہ دور کے بعد زیادہ مضبوط ہوئے۔ 2019 میں کورونا کے باعث چین کے صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہوا جس کی وجہ سے کچھ چیزیں طے ہونے سے رہ گئیں۔ اب 2 سال بعد چین کے صدر سے ملاقات ہوئی۔

افغانستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سےعمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے سب متفق ہیں۔ سوائے امریکا کے سب سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے منجمد اکاؤنٹ بحال کیے جائیں۔ افغانستان کے حالات خراب ہوئے تو امریکا کو اور بھی مشکلات کا سامنا ہو گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More