سندھ میں پانی کی قلت تشویشناک صورت حال اختیار کرگئی

سندھ میں پانی کی قلت تشویشناک صورت حال اختیار کرگئی ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی کمی برقرار ہے۔ جس کی وجہ سے سندھ بھر میں کپاس کی فصل متاثر ہوئی ہے۔ جامشورو میں کوٹری بیراج پر پانی کم پہنچنے کی وجہ سے کراچی کے لیے کینجھر جھیل اور دیگر شاخوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

سندھ کی تینوں بیراجز پر پانی کی قلت مجموعی طور پر 53 فیصد تک پہنچ گئی۔ آبپاشی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی سے سندھ میں کپاس کی فصل شدید متاثر ہوئی ہے۔ ملک بھر میں بارشیں کم ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت میں اضافہ ہوا ہے۔

سندھ بھر میں ایک طرف شدید گرمی رکارڈ کی جا رہی ہے تو دوسری طرف سندھ کی تینوں بیراجز پر پانی کی قلت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انچارج کنٹرول روم عبدالعزیز سومرو کے مطابق سکھر بیراج پر پانی کی آمد 27ہزار 180 اور اخراج 8ہزار 350 کیوسک، جبکہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 33ہزار 462 اور اخراج 33ہزار 462 کیوسک ، جبکہ کوٹڑی بیراج پر پانی آمد 4 ہزار 900 اور پانی اخراج 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جبکہ تربیلا ڈیم کی سطح 1408.58 فوٹ تک ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

ایریگیشن حکام کے مطابق بارشیں کم ہونے کے باعث پانی کمی کا سامنا ہے۔ جبکہ کھیرتھر کینال ،دادو کینال اور رائیس کینالز کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ پانی کمی کی وجہ سے رواں سال کپاس، چاول اور گنے کے فصلوں کی کاشت میں ریکارڈ کمی ہوسکتی ہے۔ آبپاشی حکام کے مطابق ایسی صورتحال ملک بھر میں کم بارشیں پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

سندھ کے ساتھ جنوبی پنجاب میں بھی پانی کی قلت تشویشناک صورت حال اختیار کرگئی ہے۔ رحیم یار خان کی نہروں میں بھی پانی کی قلت ہوگئی ۔ پانی نہ ملنے پر کاشتکار محکمہ انہار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ کاشتکاروں نے نہروں میں پانی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More