امریکا کا چینی ہائپرسونک میزائل کے تجربے پر تشویش کا اظہار

واشنگٹن: امریکی فوج کے سربراہ نے چین کے جوہری صلاحیت کے حامل ہائپرسونک میزائل کے تجربے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس تجربے کا موازنہ سرد جنگ کے زمانے میں سابقہ سوویت یونین کے سپوتنک تجربے سے کیا۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے چین کے ہائپرسونک میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے ہائپر سونک ہتھیاروں کے سسٹم میں اہم پیش رفت کرلی ہے۔ امریکا کے لیے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔

مارک ملی چین کے کامیاب تجربے کی تصدیق کرنے والے پینٹاگون کے پہلے اعلی ترین عہدیدار ہیں۔ انہوں نے بلوم برگ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو دیکھا وہ ہائپرسونک ہتھیاروں کے نظام کے ٹیسٹ کا ایک بہت اہم واقعہ تھا اور یہ بہت ہی تشویش ناک ہے۔

امریکا کے فوجی سربراہ نے چین کے ہائپر سونک میزائل کے تجربے کا موازنہ سرد جنگ کے دوران خلائی دوڑ میں سوویت یونین کے سبقت حاصل کرلینے سے کیا۔ جنرل مارک ملی کا کہنا تھا،”مجھے نہیں معلوم کہ یہ واقعی سپوتنک جیسا لمحہ تھالیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس کے انتہائی قریب تر تھا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More