امریکہ اور پاکستان کو ماضی کی کشیدگی سے آگے بڑھنا چاہیے، بلاول بھٹو

نیو یارک: وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کو افغانستان پر ماضی کی کشیدگی سے آگے بڑھنا چاہیے، دونون ممالک سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں برسوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد ایک نئی مصروفیت میں داخل ہو رہے ہیں۔

نیویارک میں امریکی خبرایجنسی کو دئے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے امریکی ہم منصب انٹونی بلکن کے ساتھ ملاقات کومثبت قراردیتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کو ہر سطح پر امریکہ کے ساتھ روابط کو جاری رکھنا چاہیے، بلنکن سے ملاقات واقعی ایک اہم پہلا قدم تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تنازعے پر دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ رہے، لیکن اب دونوں ملکوں کو آگے بڑھنا چاہئے، اس سے قطع نظر کہ ہم افغانستان میں حکومت کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا افغان عوام کو نہیں چھوڑ سکتی اور اسے فوری طور پر ملک کے انسانی بحران اور تباہ حال معیشت سے نمٹنے کی ضرورت ہے، افغان معیشت کا مکمل خاتمہ افغانوں، پاکستان اور عالمی برادری کے لیے تباہی کا باعث ہو گا، انہوں نے اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے افغان باشندے ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طالبان پر اپنے بین الاقوامی وعدوں پر عمل پیرا ہونے پر بھی زور دے رہا ہے کہ ملک کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے، لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے اور وہ ایک جامع حکومت تشکیل دیں، طالبان نے حالیہ ہفتوں میں مزید سخت گیر موڑ لیا ہے، خواتین پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، اسی دوران افغانستان میں مقیم عسکریت پسندوں کی جانب سے پاکستان میں حملے کرنے پر طالبان اور پاکستان کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جتنا زیادہ انسانی بحران کا خاتمہ ہوگا اور معیشت کو تباہی سے بچایا جائے گا، ہم خواتین کے حقوق کے حصول میں کامیاب ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے اور دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں میں کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلنکن کے ساتھ بات چیت میں ان کی توجہ تجارت کو بڑھانے پر تھی، خاص طور پر زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور توانائی میں، انہوں نے کہا کہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدام پر امریکہ کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا جو بائیڈن نے پاکستان کے روایتی حریف بھارت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا ہے، لیکن پاکستان ان کے تعلقات سے “حسد” نہیں کرتا، انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ دنیا پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے کافی بڑی ہے، دفاعی اور فوجی ہم آہنگی کے بارے میں اگر ہم مشغول رہیں تو ہم مزید مثبت سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں خاص طور پر نفرت، تقسیم اور پولرائزیشن کی سیاست کا مخالف ہوں، اگر ہم مستقل طور پر “آپ ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف” کی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں، چاہے وہ بین الاقوامی سطح پر ہو یا ملکی سطح پر، میں نہیں مانتا کہ یہ پاکستان کے لوگوں کے مفادات کی خدمت کرتا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More