ججز پرالزامات لگانا بند کر دیں،عمرعطا بندیال

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کا فل کورٹ ریفرنس سے خطاب ،چیف جسٹس پاکستان کا بار کونسلز کی تقریروں پر سخت رد عمل ۔کہتے ہیں ججز پرالزامات لگانا بند کر دیں، جس بندے پر اعتراض ہے اس کا نام لیں ۔ وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل کا ججز کو تنخواہ دار ملازم کہنا اور الزام تراشی کرنا انتہائی نامناسب ہے۔جس شخص سے مسئلہ ہو آکر بتائیں میرے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی امین کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے منعقدہ ریفرنس میں سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کے الزامات پر سخت ردعمل کا آظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز انتہائی قابل اور پروفیشنل ہیں۔ ججز تعیناتی کیلئے طریقہ کار متفقہ طور پر وضع کیا جارہا ہے،ججز کیلئے قابلیت، رویے، بہترین ساکھ اور بغیر کسی خوف و لالچ کا معیار رکھا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججز عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد کئی گھنٹے تک مقدمات سنتے ہیں. ججز اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں، عوام میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ صرف میڈیا کیلئے ہے کسی جج کو بغیر ثبوت کے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ہے، بنچ تشکیل دینے کا اختیار ہمیشہ سے چیف جسٹس کا رہا ہے۔ احسن بھون کس روایت کی بات کر رہے ہیں؟ بیس سال سے بنچز چیف جسٹس ہی بناتے ہیں بلاوجہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں؟

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی چیف جسٹس بہترین افسران میں سے کرتے ہیں، رجسٹرار تعینات کرنا میرا اختیار ہے۔رجسٹرار کو قانون کا بھی علم ہے اور وہ انتظامی کام بھی کرنا جانتے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں انتظامی کام بھی میں کروں؟ ججز خود پر لگے الزامات کا جواب نہیں دے سکتے سنی سنائی باتوں پر سوشل میڈیا پر الزامات نہ لگائے جائیں، فیصلوں پر تنقید کریں ججز کی ذات پر نہیں،مفید علم کی بات کریں، یہ گفتگو کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن دل میں آئی بات کر دی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More