دھمکی آمیز خط اخبار میں چھاپا جائے، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کاکہنا ہے کہ ہمیں کوئی ملک دھمکی دیتا ہے ہمیں اس ملک کوجواب دینا چاہیے۔میرا موقف ہے مراسلے کے پوائنٹس اہم لوگوں کو دکھا کر خط اخبار میں چھاپ دیاجائے۔اگر کوئی ملک اتنی مداخلت کرتا ہے کہ ہماری سیاست کو چلانا شروع کردے تو اس سے تعلقات ختم کردیں۔

اب تک نیوز کے پروگرام ٹونائٹ ود فریحہ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مراسلہ اہم تھا توپہلےدن نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے پاس لے جاتے اسے کیوں تین ہفتےبعد لیکر گئے۔ یکم جنوری 2018کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا ہم نے تین گھنٹےکےاندر سلامتی کمیٹی کااجلاس بلاکرامریکی صدرکو جواب دیا تھا۔خودمختاری یہ نہیں کہ خط کو جلسوں میں لہرائیں اسے پارلیمنٹ میں لاتے۔

انہوں نے کہاکہ غیر ملکی سفارتکاروں سے حکومت اور اپوزیشن سمیت سب کی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے سفارتکار بھی ہر کسی سے ملتے ہیں دیگر ممالک کی اپوزیشن سے ملتے ہیں ۔آج کی اپوزیشن مستقبل کی حکومت ہوتی ہے اس لیے ہر ایک سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ بیرونی سازش نہیں یہ پاکستانی عوام کی سازش ہے جو وزیراعظم سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم جارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ چلو شوشہ چھوڑدو اب یہ چورن نہیں بکتا۔

عدم اعتماد کو واپس لینے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کو ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے وزیراعظم استعفی دے دے معاملہ ختم ہوجائے گا۔ہمیں بتایاگیاوزیراعظم استعفی دینے کو تیارہیں۔ یہ ووٹ کو عزت دو کی کامیابی ہوگی ۔جب ووٹ کے ذریعے اتوار کو ایک حکومت گھر بھیجی جائے گی۔ ثالثی کروانے والے کو ہم نے دو ٹوک کہا کہ عدم اعتماد ہے ہم ہار گئے تو ہار گئے جیت گئے تو وزیراعظم گھرچلاجائے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More