اب تک پاکستان اہم خبریں تازہ ترین عدالتیں اور مقدمے نیوز ٹکر پاکستان

سپریم کورٹ نے صحافیوں پر حملے اور مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی

اسلام آباد: صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے،چئیرمین پیمرا اور آئی جی اسلام آباد سے صحافیوں کے مقدمات سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو ایک سال میں صحافیوں پر ہونے والے مقدمات اور آئی جی اسلام آباد کو صحافیوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

صحافیوں کو ہراساں کیے جانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین پیمرا اور آئی جی اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین پیمرا سے چینلز کیخلاف کارروائی کے اختیار سے متعلق جواب طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ نے کہا پیمرا بتائے کیا اسکے قانون کا سیکشن27 آئین کے آرٹیکل 19 سے متصادم ہے؟ عدالت نے اٹارنی جنرل سے بھی پیمرا قانون کے سیکشن 27 کی تشریح پر معاونت بھی طلب کرلی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے سمیت کسی ادارے کو اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرنے دینگے۔ ایف آئی اے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا اطلاق پہلے کرتا ہے سوچتا بعد میں ہے۔ حقوق کی خلاف ورزی ہوئی تو ذمہ دار ڈی جی ایف آئی اے ہونگے۔

جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ صحافت کی آڑ میں کسی کے ذاتی فعل کو تحفظ نہیں دینگے۔ کسی کو صحافیوں سے مسئلہ ہے تو قانونی راستہ اپنائے ۔ گولیاں مارنا یا تشدد کرنا لاقانونیت ہے۔آئی جی اسلام آباد یقینی بنائیں کہ صحافیوں پر حملے کرنے والے گرفتار ہوں۔ مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جا سکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے ثنااللہ عباسی نے عدالت کو بتایا کہ چار سال میں صحافیوں کیخلاف 27 شکایات ملیں جس میں سے چار شکایات انکوائری میں تبدیل ہوئیں اور مقدمات درج ہوئے۔عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

Related posts

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا

faraz ahmed

مسلم لیگ (ن) کا وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو چیلنج

faraz ahmed

کورونا کے مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی ہے، اسد عمر

Beenish Umer

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More