شریف خاندان نے کیسز ختم کرنےپر کام شروع کر دیا، عمران خان

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہےکہ نون لیگ نے اپنے مقدمات ختم کرنے کا کام شروع کردیاہے، انہوں نے کیس کے افسران کے تبادلے کردئیے،پراسیکیوٹر کو عدالت جانے سے منع کردیا، سارا ریکارڈ خود لے لیا ہے ۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے افسر ہٹا دیے گئے، پراسیکیوٹر کو عدالت آنے سے روک دیا گیا، خطرہ ہے کہ اب کیسز کے ریکارڈ غائب کیے جائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو شریف خاندان مجھے دھمکیاں دیتا تھا، آج ان کے کیسز کا وائٹ پیپر قوم کے سامنے لانا چاہتا ہوں، ہمارے دور میں ان پر صرف ایک کیس 16 ارب کا ایف آئی اے کا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پانامہ پیپرز میں انکشافات کے علاوہ بھی چھپی پراپرٹیز ہیں ،40 سے 45 ارب کے 16 کیسز ہیں جن کا فیصلہ ہوچکا ہے، ان کے اوپر 4 نیب کیسز ہیں، نواز شریف کو سزا ہو چکی ہے اور وہ سزا سے بچنے کے لیے ملک سے باہر بھاگے ہیں، حسن نواز ان کے دور میں بیرون ملک فرار ہوئے ہیں، جب ان سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے شہری نہیں ہیں، 3 بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے کے بیٹے کہتے ہیں ہم پاکستانی نہیں ہیں، مریم نواز کو بھی سزا ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حسن نواز اور حسین نواز ان کے دور میں ہی ملک سے فرار ہوئے، نواز شریف کے بیٹے کی ون ہائیڈ پارک میں 9 ارب کی پراپرٹی ہے، یہ خاندان 30 سال سے ملک کو لوٹ رہا ہے، انہوں نے اپنے نوکروں کے نام پر پیسہ لیا اور ملک سے باہر بھیج دیا۔

عمران خان نے کہا کہ ان کے سارے کیسز 2008ء سے 2018ء کے دور کے ہیں، شوگر کمیشن میں شہباز شریف کے خلاف 9 ارب کی انکوائری چل رہی ہے، ان پر توشہ خانے کے کیس بھی ہیں، انہوں نے میرے خلاف توشہ خانے کے حوالے سے بڑا شور مچایا، مجھے جو گاڑی ملی تھی وہ آج بھی توشہ خانہ میں موجود ہے ۔ آصف زرداری نے توشہ خانے سے 3 بلٹ پروف گاڑیاں لیں۔

مسجد نبویﷺ کی توہین کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ مدینہ میں جب واقعہ ہوا اس پر ہمارا شب دعا کی تقریب چل رہی تھی، جب شب دعا سے فارغ ہوئے تو مدینے کے واقعے کا علم ہوا، ہم پر الزام لگایا جارہا ہے کہ مسجد نبویﷺ کی توہین کا ہم نے کہا تھا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More