تحریک انصاف کی حکومت کو ہماری پالیسی پر عمل کرنا چاہیے تھا، اسحاق ڈار

سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے بدترین کارکردگی میں یحییٰ خان کی حکومت کوبھی پیچھے چھوڑدیا۔ رواں سال تجارتی خسارہ پانچ ہزار پانچ سو ارب ہوجائےگا۔ اسحاق ڈار نے کہا خان صاحب کا لیاگیا قرضہ آج سب سے بڑا بوجھ بن چکا ہے اور اگر یہ حکومت پوری کرتےتو یہ رقم دوگنی ہوجاتی۔ دوہزار سولہ تک ہم دنیا کی اٹھارویں بڑی اکانومی تھے۔ اور اب چوون نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔ اب تو ہم افغانستان سے بھی نیچے چلے گئے ہیں۔

ٹونائٹ ود فریحہ میں خصوصی گفتگو میں سابق وزیر خزانہ و رہنما نون لیگ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارا مقصد تمام جماعتوں کو مفاہمت کے ذریعے اکٹھا کرنا تھا۔ ہم نے چوہدری پرویزالہی کو کہا کہ ہم ق لیگ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ چوہدری پرویزالہی کی خواہش کے مطابق انہیں وزیراعلی پنجاب بنانے کا طے ہوگیا تھا۔ یہ ہماری نیک نیتی تھی کہ ق لیگ کے چندارکان ہونے کےباوجود انہیں وزارت اعلی آفر کی۔ آخری وقت میں ناجانے کیا ہوا کہ چوہدری پرویزالہی بنی گالہ چلے گئے۔ پرویزالہی ٹریپ میں آگئے تھے اور ہمیں اس ٹریپ کا بھی معلوم ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلی میں جو ہوا وہ تاریخ میں سیاہ باب کے طورپر لکھا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں عمران خان نے غلط روایت قائم کی۔

انہوں نے کہا پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات پر دکھ ہوا۔ پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ پراسس آئینی اور جمہوری طریقےسے مکمل ہوناچاہیے تھا۔ آج پنجاب اسمبلی میں جو ہوا دنیا میں غلط پیغام گیا۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے وزرائے اعظم مدت پوری کیے بغیر نکالے جاتے رہے۔ محترمہ بے نظیر کو دو مرتبہ اور میاں نواز شریف کو تین مرتبی نکالا گیا۔ محترمہ بے نظیر اور میاں نواز شریف خاموشی سےچلےگئےتھے جو عمران خان نے کیا انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ قومی اسمبلی میں بری روایت عمران خان نے ڈالی۔ جو قرارداد مسترد نہیں ہوسکتی تھی اس کو مسترد کیا گیا۔ دو ہزار بائیس میں بھی اگر ہمارا رویہ یہ ہے کہ میں نے نہیں جانا تو پھر جمہوریت کیا ہوگی۔ اگر 2022میں کوئی کہےکہ میں نے کرسی نہیں چھوڑنی تو یہ فاشزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں نتائج کے دوران تحریک انصاف کو 80سے 85 نشستیں مل رہیں تھیں۔ رات کو آرٹی ایس بند ہوا اور جھرلو پھیر دیا گیا اور 84 نشستیں ن لیگ کو ملیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ہماری پالیسی پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ تحریک انصاف نے ڈالر کو اوپن چھوڑا اور مہنگائی کا طوفان آگیا۔ ڈالر ریٹ کو مزید نیچے آنا چاہیے۔ ڈالر کو اوپن چھوڑے اورروپے کی قدر گرانے کامقصد برآمدات کو بڑھانا تھا۔ روپے کی قدرمیں کمی سے تقریباً چارہزار قرضہ بھی بڑھ گیا اور برآمدات بھی نہیں بڑھیں۔

اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ جنرل یحیی خان کی حکومت تاریخ کی سب سے بری حکومت تھی۔ معاشی اعدادوشمار میں پی ٹی آئی نے جنرل یحیی کی حکومت کو بھی پیچھے چھوڑدیا۔ کورونا آنے سے پہلے ہی حکومت گرچکی تھی۔ حکومت نے کورونا میں بھی مس مینجمنٹ کی۔ کورونا میں ان کو فائدہ ہوا ساڑھے چارارب ڈالر قرضہ واپس کرنا تھا وہ نہیں کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کا لیا گیا قرضہ آج سب سےبڑا بوجھ بن چکا ہے۔ خان صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ 10ہزارارب کا قرضہ کم کرکے جائیں گے۔ خان صاحب نے 25ہزار ارب سے قرضہ 45ہزار ارب پر پہنچادیا۔ 18سے 20ہزارارب کا قرضہ جو انہوں نے لیا یہ مدت پوری کرتے تو اس کودوگنا کرجاتے۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس خزانے میں دو ماہ کے ریزروز بھی نہیں ہیں۔ رواں سال فسکل ڈیفیسٹ 5500ارب روپے ہوجائے گا۔ ہم نے ملک کی ڈائریکشن تبدیل کرنی ہے اس کو آگے لیکر جانا ہے۔ ہم اپنے دورمیں مہنگائی کو 40سال کی کم ترین سطح پر چھوڑ کرگئے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خان صاحب کی حکومت میں مافیاز نے مس میجنمنٹ کی وجہ سے اربوں روپے لوٹے۔ مافیاز نے ایک سال میں چھ سے سات ہزار ارب روپے لوٹے۔ مہنگائی کو روکنے کے لیے فسکل پالیسی کو بہتر کرنا ہوگا۔ 2016تک ہم دنیا کی اٹھارویں بڑی اکانومی تھے اب 54نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ہم افغانستان سے بھی نیچے چلے گئے ہیں۔ ہمیں اکانومی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اس لیے کہتا تھا کہ چارٹرآف اکانومی کرناچاہیے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے اور میاں نواز شریف کو نئے پاسپورٹ ابھی نہیں ملے۔ نوازشریف کا پاسپورٹ ایکسپائر ہوا تھا۔ میرا پاسپورٹ حکومت نے کینسل کردیا تھا۔ امید ہے ہمارے پاسپورٹ جلدآجائیں گے۔ میرا اور میاں صاحب کا علاج کورونا کی وجہ سے رکا ہوا تھا وہ ابھی ہونا ہے۔ میرے ٹریٹمنٹ کی تاریخ مئی کی ہے میں نےاپنے سرجن کو درخواست کی ہے کہ تاریخ قریب کی مل جائے۔ میرے سرجن اجازت دیں گے تو جلد واپس آوں گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تاجکستان جانا تھا بطور وزیر خزانہ اپنی ٹیم کے ساتھ مجھےدو دن پہلے جانا تھا۔ تاجکستان کے لیے ڈائریکٹ فلائیٹ نہیں جاتی ہمیں دبئی یا استنبول سے فلائیٹ لینا تھی۔ مجھے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں ان کے ساتھ ہی جاوں۔ میرانام ای سی ایل پر تو نہیں تھا کہ میں باہر نہیں جاسکتا تھا اور نہ وزیراعظم کے جہاز میں جانے پر پابندی تھی۔ مجھے ہیلتھ ایشو ہوا تو میں تاجکستان سے لندن چلا گیا۔ کہا گیا شاہد خاقان نے بھگادیا یہ باتیں بکتی ہیں اس لیے اس طرح کئ بھونڈے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ وزراء وزیراعظم کے ساتھ جاتے ہیں شاہد خاقان نے اسپیشل میرے لیے تو کچھ نہیں کیا۔

رہنماء مسلم لیگ نون کا کہنا تھا کیہ میں چالیس سال سے ٹیکس ادا کررہا ہوں کئی مرتبہ ممبر پارلیمنٹ رہا ہوں۔ لندن میں بیٹھ کر بھی میں موجودہ حکومت کو اپنی ان پٹ دے رہاہوں۔ سینیٹر ہوں اور جلد واپس آکر حلف اٹھاوں گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More