نیب ترمیمی بل پاس، کرپشن کیسز کا فیصلہ ایک سال میں کرنا ہوگا

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل 2021 دوسری ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ چیئرمین نیب کو ریٹائرمنٹ دوبارہ چیئرمین نیب مقرر نہیں کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل 2021 دوسری ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔ بل کے متن کے مطابق چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا۔ چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے جبکہ ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا۔

بل کے مطابق وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دئیے گئے۔مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے۔کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا اسکیم میں بےقائدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی جبکہ کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کاروائی نہیں کر سکے گا۔

بل میں تجویز دی گئی ہے کہ احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی۔احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی۔نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا اور 40 روز میں مکمل کرنا ہوگا۔

بل کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی۔چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا۔ ڈپٹی چیئرمین کے تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

منظور کردہ بل کے مطابق احتساب عدالتیں کرپشن کیسز کا فیصلہ ایک سال میں کریں گی۔ نیب انکوائری کے لیے نئے قانون کے تحت مدت کا تعین کر دیا گیا۔ نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوئری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا۔ نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹے میں نیب کورٹ میں پیش کرنے کا پابند ہوگا جبکہ کیس دائر ہوتے ہی گرفتاری نہیں ہوسکے گی۔

بل کے متن میں کہا گیا کہ نیب گرفتاری سے پہلے ثبوتوں کی دستیابی یقینی بنائے گا۔ نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کرکے 14 دن کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔نیب ملزم کے لیے اپیل کا حق 10 روز سے بڑھا کر 30 روز کر دیا گیا ہے جبکہ ملزم کے خلاف ریفرنس دائر ہونے تک کوئی نیب افسر میڈیا میں بیان نہیں دے گا۔

قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے نیب ترمیمی بل میں کہا گیا ہےکہ ریفرنس دائر ہونے سے قبل بیان دینے پر متعلقہ نیب افسر کو ایک سال تک قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا جبکہ کسی کے خلاف کیس جھوٹا ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو5 سال تک قید کی سزا ہو گی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More