بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس چھوٹ کو بڑھایا ہے، چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد: چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس چھوٹ کو بڑھایا گیا ہے جبکہ غیر ضروری ودہولڈنگ ٹیکسز کو ختم کیا گیا ۔

اسلام آباد میں میڈیا کو نئے ٹیکس اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 440 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں۔ کسمٹز ڈیوٹی کی مد میں 34 ارب اور سیلز ٹیکس 90 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات کی تجویز ہے۔ انکم ٹیکس میں 316 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات کئے گئے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ عوام کو 85 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ کسمٹز کی مد 6 ارب، سیلز ٹیکس 30 ارب اور انکم ٹیکس کی مد میں 49 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کی تجویز ہے جبکہ مجموعی طور پر 85 ارب کا ریلیف سے تجویز کیا گیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ بہبود سرٹیفکیٹ پر ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے اور آئی ٹی کی برآمدات پر ٹیکس 1 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصدکرنے کی تجویز ہے۔ غیر استعمال شدہ رہائشی، کمرشل، انڈسٹریل پلاٹ اور فارم ہاؤسز پر ٹیکس ہوگا کیپٹل گین ٹیکس کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔پہلے سال کیپیٹل گین ٹیکس 15 فیصد دوسرے سال 12.5 فیصد ٹیکس ہوگا نان فائلر پر پراپرٹی کی خریدوفروخت پر ٹیکس کو 2 فیصد سے پانچ فیصد کیا گیا ہے۔

اس موقع پرممبر ان لینڈ ریونیو آفاق قریشی نے کہا کہ 30 کروڑ روپے سے زائد منافع کمانے والوں پر 2 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا یہ ٹیکس غربت کے خاتمے کا ٹیکس ہوگا اس سے 38 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا ۔بینکوں کے منافع پر ٹیکس شرح کو 39 فیصد بڑھا کر 42 فیصد کردیا گیا ہے اس سے 28 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا ۔

ان کا کہنا تھا کہ کمرشل امپورٹرز جو خام مال درآمد کرے گا اس پر شرح کو 2 فیصد سے بڑھا 4 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ٹیئر ون ریٹیلرز کے علاوہ تاجروں پر فکس ٹیکس لگے گا 30 ہزار بجلی کا بل دینے والا تاجر ماہانہ تین ہزار روپے ماہانہ ٹیکس دے گا ۔50 ہزار بجلی کا بل دینے والا 5 ہزار ٹیکس دے گا۔1 لاکھ روپے بجلی کے بل والا 10 ہزار روپے ٹیکس دے گا ۔کار ڈیلروں اور مہنگی گھڑیاں بیچنے والوں پر 50 ہزار روپے ماہانہ ٹیکس کی تجویز ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More