منی بجٹ سے ٹیکس کا طوفان نہیں آئے گا، وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں اگر آپ نہیں کرے گے تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا۔ ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاکہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں۔ اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے۔ جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتےیہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More