توہین مذہب پر شہری کا قتل،سو سے زائد افراد گرفتار کرلیئے،طاہراشرفی

اسلام آباد: پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل، پر تشدد واقعہ میں ملوث مرکزی ملزمان سمیت سو سے زائد افراد گرفتار کرلیئے گئے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی کہتے ہیں ریاست ایسے واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ حکومت مقتول کے ورثا سے رابطے میں ہے تمام دینی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں نے اس بہیمانہ قتل کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اس نوعیت کے واقعات کے سد باب کیلئے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

توہین مذہب کے الزام کی آڑ میں ذہنی معذور شہری کو سر عام تشدد کرکے قتل کرنے کی واردات پر وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس وقوعہ پر پہنچی تھی مگر پولیس کی تعداد کم اور پر تشدد لوگ زیادہ تھے تمام علما و مشائخ نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعظم عمران خان اور حکومت متاثرہ شخص کے خاندان سے رابطے میں ہیں ایک سو بارہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

طاہر اشرفی کے مطابق اس نوعیت کی پر تشدد انتہا پسندی کے معاملات میں کسی کی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ ریاست دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کمر بستہ ہے۔ طاہر اشرفی کے مطابق انتہاپسندی اور دہشت گردی کی فضا گزشتہ تیس سے چالیس سالوں سے پروان چڑھتی رہی ہے جس میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا بھی کردار رہا ہے۔ تاہم اب اس ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More