سانحہ سیالکوٹ کے خلاف جمعہ کو یوم مذمت منائیں گے، طاہر اشرفی

اسلام آباد: وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پورے ملک میں اتفاق رائے ہے کہ کسی شخص کو بھی توہین رسالت یا توہین مذہب پر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جمعہ کو مسلمان جبکہ اتوارکو مسیحی سانحہ سیالکوٹ کے خلاف یوم مذمت منائیں گے۔

وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے خلیجی امور علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ یوم جمعہ کو یوم مذمت منایا جائے گا، عوام کو بتایا جائیگا کہ توہین ناموس رسالت کیاہے ۔133 سے زائد توہین رسالت کیسز کے بارے میں شکایات سنی ہیں جس طرح اس مظلوم سری لنکن کی لاش اس کے گھر پہنچی ہے وہ انتہائی درد ناک لمحہ تھا ۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکن حکومت نے ہماری درخواست پر کورونا کے مسلم میتوں کی تدفین کی مگر یہاں کچھ ناعاقبت اندیش افراد نے ایک زندہ شخص کو جلا کر سری لنکا بھجوادیا، یہ لمحہ فکریہ ہے ۔

طاہر اشرفی نے کہا ملی یکجہتی کونسل اور پاکستان علماء کونسل کے ضابطہ اخلاق میں علما نے واضح طور پر بات کی ہے عوام الناس، میڈیا، وکلا، تاجران سمیت تمام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہےجو دینی تشخص کو خراب کرتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں ہم سب کو انکے خلاف مل کر کھڑا ہونا ہوگا۔علمائے کرام جمعہ کو اس سانحہ کی مذمت کریں گے، جبکہ مسیحی برادری اتوار کو چرچز میں یوم مذمت منائے گی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طبقہ ہے جسے پاکستان میں اسلامی تشخص، عقیدہ ختم نبوت سے تکلیف شروع ہوجاتی ہے تمام علماء کرام نے سانحہ سیالکوٹ کی مذمت کی ہےتمام الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا مشکور ہوں کہ انہوں نے جس طرح نشر کیا، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں انتہاء پسندی کا خاتمہ اسی طرح ہوگا جس طرح دہشت گردی کے خلاف ہم اکٹھے ہوئے ہم سب کو آگے آنا ہوگا اور اس انتہا پسند سوچ کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا ۔ 40 سال کا مرض ہے جو کینسر کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک متحد نہیں ہونگے انتہاء پسندی ختم نہیں ہوگی دین اسلام اعتدال کا دین ہے، جلد ہم یونیورسٹیوں سمیت تعلیمی اداروں میں جائیں گے اپنی آنے والی نسل کو دین اسلام اور اعتدال پسندی بارے لیکچر دینگے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More