عدالت عظمیٰ کا متروکہ وقف املاک سے متعلق آڈیٹرجنرل کی رپورٹ پر کاروائی کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو متروکہ وقف املاک سے متعلق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر کاروائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے متروکہ وقف املاک کی 7143 یونٹس سے متعلق ایک ماہ میں ابتدائی رپورٹ پیش کریں۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کو متروکہ وقف املاک کے دوماہ میں آڈٹ کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے کہا کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ آڈیٹر جنرل کو آ ڈٹ کیلئے تمام ریکارڈ کی فراہمی یقینی بنائیں جبکہ ڈی جی ایف آئی اے متروکہ وقف املاک بورڈکی املاک پر قبضہ وگزارکرانے کیلئے بھی کاروائی کریں۔

عدالت عظمیٰ نے پشاور چرچ حملہ کیس کے بعد متاثرین کیلئے بنائے گئے فنڈ کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر آئی جی سندھ کی جانب سے رمیش کمار پر حملہ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس نے رمیش کمار کی درخواست پر مقدمہ درج کیا ہے۔

رمیش کمار کے مخالف فریق ساجد محمود بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ رمیش کمار میرے پڑوسی ہیں۔ وہ اور ان کے گارڈز علاقہ مکینوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا پڑوسی ہیں تو مل بیٹھ کر فیصلہ کریں۔ دونوں بڑے آدمی ہیں۔ زمین پر معاملات کیسے حل ہوں گے۔

وکیل متروکہ وقف املاک بورڈنے کہا کہ عدالتی حکم پر 48 ہزار پراپرٹیز کی تفصیلات جمع کرادی ہیں۔ چیئرمین اقلیتی کمیشن شعیب سڈل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم پر پہلے بھی آڈٹ ہوا اور آڈیٹر جنرل کو 50 فیصد سے بھی کم ریکارڈ دیا گیا پھر بھی 7143 یونٹس میں بے قاعدگیاں پائی گئیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More