بلدیاتی قانون پر سپریم کورٹ کا فیصلہ مشکلات کا سبب بنے گا، سعید غنی

کراچی: سندھ حکومت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات تک ٹاؤنز پر عملدرآمد روک دیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام صوبوں کوسنے بغیر دیا گیا جو کہ مشکلات کا سبب بنے گا۔ اس فیصلے میں بعض شقوں پر نظر ثانی کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ ابھی بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے اس لیے اسٹریکچر کو تبدیل کرنے کےلیے عملدرآمد فی الحال ممکن نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے 2013 کے ایکٹ میں صرف دو شقوں کو کالعدم قرار دیا ہے جو بڑا مسئلہ نہیں ہیں لیکن کچھ چیزوں پر نظر ثانی کےلیے درخواست دی جائے گی۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ دو سال تک محفوظ رہا۔ اب کچھ لوگ اس پر پوائنٹ اسکورنگ کررہے ہیں۔ ہماری بات چیت سب کے ساتھ ہورہی ہے ۔ بسوں کا وعدہ کئی دفعہ کرچکا ہوں ۔بہت جلد بسیں بھی آجائیں گی۔۔۔

سندھ کابینہ اجلاس میں کوآپریٹو مارکیٹ کے متاثرین کو معاوضہ دینے کی منظوری دے دی گئی جبکہ اسٹیل ملز کی زمین سوئی سدرن گیس کمپنی کے حوالے کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور جزائر پر پروٹیکٹڈ فاریسٹ ڈکلیئر کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More