کسی کو بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں دے سکتے، سپریم کورٹ بار کا عاصمہ جہانگیر کانفرنس پر اعلامیہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس پر وضاحتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہی ملکی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق چند روز قبل عاصم جہانگیر کانفرنس ہوئی، جس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد، سپریم کورٹ کے سینئر ججز، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی سمیت دیگر مقررین نے شرکت کی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد ترقی یافتہ اور جمہوری پاکستان ہے، کانفرنس کے مقررین کے نقطہ نظر کی توثیق نہیں کرتے۔ یہ فورم ملک بھر کے پیچیدہ مسائل پر ہماقسمی نقطہ نظر کے لیے مختص ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کسی ایجنڈے کے تحت کانفرنس کے انعقاد کے الزامات کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ اس کانفرس کے انعقاد کا مقصد ترقی یافتہ اور جمہوری پاکستان ہے۔

اعلامیہ کے مطابق اس کانفرنس میں کسی شخص کو بلاکر یہ موقع نہیں دیا گیا کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔ پیمرا نے مخصوص مقررین کی تقریر کی نشریات پر پابندی لگائی۔

مجموعی طور پر عوامی خطابات پر ان افراد پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ جمہوری ترقی کے لیے اظہار رائے کی آزادی بنیادی جزو ہے۔ کانفرنس کے ذریعے عدلیہ، وکلا، بنیادی انسانی حقوق کے لیے متحرک نمائندگان کو نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے ذریعے بار ایسوسی ایشن نے صحافیوں، حکومت اور اپوزیشن کو بات کرنے اور سننے کے لیے پل کا کردار ادا کیا۔ سپریم کورٹ بار کسی کو بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ملکی ترقی کے لیے قانون کی حکمرانی، شفاف ٹرائل اور آئین پاکستان ہی واحد ذریعہ ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More