سپریم کورٹ نے 60 سال بعد تربیلا ڈیم متاثرین کا فیصلہ کر دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے تربیلا ڈیم متاثرین کا 60 سال بعد فیصلہ کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے متاثرین کے کلیمز کے خلاف واپڈا کی اپیل واپس لینے پر خارج کردی ہے۔

سپریم کورٹ نے متاثرین تربیلا ڈیم کو معاوضے کی ادائیگی اور متبادل زمین کی ادائیگی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس ضمن میں کہا ہے کہ پالیسی کے مطابق تربیلا ڈیم متاثرین کو متبادل زمین نہیں ملی ہے۔ اس حوالے سے عدالت نے استفسار کیا کہ 206 متاثرین کو دینے کے لیے کتنی زمین درکار ہے؟ سپریم کورٹ کے استفسار پر واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ متاثرین تربیلا ڈیم کو دینے کے لیے پانچ ہزار ایکڑ زمین درکار ہے۔

سپریم کورٹ نے واپڈا کے وکیل کی جانب سے دیے جانے والے جواب پر ہدایت کی کہ واپڈا راستہ نکالے اور متاثریں کی تلافی کرے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے اس موقع پر کہا گیا کہ بھاشا ڈیم متاثرین کے ساتھ بھی واپڈا نے تمام امور طے کیے تھے۔

سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ 12 ایکڑ اراضی کے لیے ایک لاکھ سات ہزار روپے معاوضہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More