سپریم کورٹ نے سندھ میں کم از کم 25 ہزار اجرت کیخلاف حکم امتناع دیدیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سندھ میں 25 ہزار کم ازکم اجرت کیخلاف حکم امتناع دیدیا۔ اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹسز جاری کر دیے گئے۔

عدالت نے کہا اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ عدالت کی کم از کم اجرت کے مقرر طریقہ کار پر معاونت کریں۔عدالت نے کیس کی سماعت تین رکنی بنچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

سندھ میں کم از کم اجرت 25 ہزار مقرر کرنے کےخلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔عدالت نے کہا سندھ کابینہ نے 25 جون کو 25 ہزار روپے کم از کم اجرت مقرر کی تاہم نجی صنعت کے وکیل کا موقف ہے کہ سندھ کی مقرر کردہ کم از کم اجرت کا طریقہ کار آئین کے منافی ہے۔عدالت نے حتمی فیصلے میں حکم امتناع واپس لیا تو درخواست گزار تمام مہینوں کی اجرت ادا کریں گے۔

وکیل نجی صنعت نے کہا کہ سندھ ویج بورڈ نے کم از کم اجرت 19 ہزار کرنے کی سفارش کی تھی مگر وزیر اعلی سندھ نے سفارش کے برعکس کم از کم اجرت 25 ہزار کردی۔قانون کے مطابق وزیر اعلیٰ یا سندھ حکومت کی پاس خود سے اجرت بڑھانے کا اختیار نہیں ہے۔باقی صوبوں میں اجرت 20 ہزار سندھ میں 25 ہزار ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صوبائی خود مختاری کی بات بھی تو کی جاتی ہے۔ جس کے جواب میں وکیل نجی صنعت نے کہا سندھ کی انڈسٹری کیلئے 25 ہزار اجرت دینا ممکن نہیں ہے۔کیس کی سماعت جنوری 2022 تک ملتوی کردی گئی ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More