کتابوں، چینی، سبزی، پھل، مچھلی، کھاد، کمپیوٹرز، گاڑیوں سمیت تمام اشیاء پرمزید سیلزٹیکس عائد

اسلام آباد: فنانس سپلیمنڑی بل میں 1800سی سی ہائیبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 12.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت نے فنانس سپلیمنڑی بل میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں ترمیم کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈیجیٹل ان وائسنگ اینڈ اینیلیس کے قیام کی تجویز دیدی ۔ منی بجٹ میں افغانستان سے پھلوں کی درآمد ،گندم اور چاول کی ملز ، کاغذ اور کتابوں اور ڈبل روٹی، چپاتی ، شیرمال پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

منی بجٹ میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں ٹریکٹرز ،بسوں، رکشا موٹر سائیکل اور ٹرکوں پر سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ آٹو ورکشاپس ، انڈسٹریل مشینری وینڈر ،جم ہیلتھ کلبوں اور ان ڈور اسپورٹس سینٹرز ،لانڈری اور ڈرائی کلینرز،کار ڈیلروں ،شادی ہال اور آئی ٹی سروسز پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

زندہ جانوروں پولٹری اور مچھلی اور انکی مصنوعات کی درآمد ،پودوں انکے بلب اور جڑوں کی درآمد،تازہ اور فروزن سبزیوں پھلوں گنا اور سیریلز کی درآمد ،کھاد کی درآمد اور مقامی مقامی طور پر تیار کردہ کمپوٹر اور لیپ ٹاپ اور اخبارات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے ۔

خام مال کی درآمد پر 17 فیصد سیلز ٹیکس،حج اور عمرہ آپریٹرز ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنٹس پر 5 فیصد سیلز ٹیکس،فریٹ فارورڈنگ ایجنٹس پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس اور 36 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے بیوٹی پارلرز ، کلینکس، سلمنگ کلینکس ، باڈی مساج سینٹرز پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

غیر ملکی ڈراموں پر دس لاکھ روپے فی قسط ایڈوانس ٹیکس،غیر ملکی اداکاروں والے کمرشلز پر پانچ لاکھ روپے فی سیکنڈ ایڈوانس ٹیکس،نئی گاڑیوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد اور ایک ہزار سی سی تک والی گاڑیوں سے ایک لاکھ روپے دو ہزار سی سی تک والی گاڑیوں سے دو لاکھ جب اس اوپر والی گاڑیوں سے چار لاکھ روپے ٹیکس وصولی کی جائے گی ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More