اب تک پاکستان تازہ ترین پاکستان

سپریم کورٹ میں 18ویں اور 21ویں ترمیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت

سپریم کورٹ میں اٹھارویں اور اکیسویں آئینی ترامیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ بھارت کا آئین پاکستان کے لیے اچھی مثال نہیں ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کہتے ہیں کہ طاقت کا محور ایک ہاتھ میں ہونا خطرناک ہے۔ لوگ پہلے آئین میں ترمیم کرتے ہیں پھر رونا شروع کر دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اٹھارویں اور اکیسویں ترمیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ کر رہا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہمارا آئین اقلیتوں کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا تحفظ دیتا ہے جبکہ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اسے قانون سازی اور ترمیم کا اختیار ہے۔ کیا ہمارے آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ ہے۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ بار کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے سوال کا ابھی تعین ہونا باقی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ اختیارات کے حوالے سے ادارے ایک دوسرے پر نظر رکھتے ہیں۔ بھارت میں آئین کے ستائیس بنیادی خدوخال کو تسلیم کیا گیا ہے۔ بھارت کے آئین کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو وہ پاکستان کے آئین سے مختلف ہے۔ بھارتی آئین پاکستان کے لیے ایک اچھی مثال نہیں ہے۔ سماعت ابھی جاری ہے۔

Related posts

پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال بھی شروع، الیکشن کمیشن کا بڑا اقدام

Hassam Alam

کراچی اور حیدر آباد میں تجارتی مراکز رات 10 بجے تک کھولنے کی اجازت

Hassam Alam

اسرائیل نے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کردیا

login web

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More