ممبران کو پارلیمنٹ آنے سے روکنا آئین کی مخالفت ہے، مریم اورنگزیب

اسلام آباد:مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی کو اپنے جمہوری حقوق کی ادائیگی سے نہیں روکا جاسکتا ہے ۔عمران صاحب اگر اپنے ممبران پہ یقین ہے تو پارلیمنٹ میں آنے پہ پاپندی کیوں لگا رہے ہیں ۔

لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل15 کے تحت رکن قومی اسمبلی ہو یا کسی عام شہری کی نقل وحرکت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے ۔ ممبران کو پارلیمنٹ آنے سے روکنا آئین کی مخالفت ہے۔عمران صاحب اگر اپنے ممبران پہ یقین ہے تو پارلیمنٹ میں آنے پہ پاپندی کیوں لگا رہے ہیں ۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 17کے تحت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا، رائے دہی کا استعمال رکن قومی اسمبلی کا بنیادی آئینی حق ہے ۔ نقل وحرکت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔اپنا ووٹ استعمال کرنا ہر شخص کا آئینی حق ہے۔نشاءاللہ ممبران پارلیمنٹ بھی آئیں گے اور آپ کو ووٹ بھی نہیں دیں گے۔

نون لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‎ارکان قومی اسمبلی کو روکنا ان کے بنیادی آئینی حقوق سلب کرنا ہے۔‎ایم این ایز پر پابندی ان کے نقل وحرکت کے آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔‎ایم این ایز کو ووٹ دینے کے بنیادی حق اور آزادمرضی سے فیصلہ کرنے سے روکنا کہ وزیراعظم کون ہو، آئین سے رو گردانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم پیش کرنے کی اجازت آئین پاکستان دیتا ہے ۔وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق کی جاتی ہے ۔‎دستورمیں درج طریقہ کار کو روکنے کے لئے طاقت یا غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے والا آئین شکنی کا مرتکب ہوگا ۔‎آئین شکنی دستور کے آرٹیکل 6 کے تحت ہائی ٹریژن یعنی بغاوت کا جرم ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More