تازہ ترین
سر کریک کی جغرافیائی اہمیت

سر کریک کی جغرافیائی اہمیت

اسلام آباد: (5 اگست 2020) سرکریک بھارت میں رن آف کچھ اور پاکستان میں صوبہ سندھ کے درمیان ساٹھ میل طویل دھارا ہے جو ساٹھ کے عشرے میں متنازع علاقے کے طور پر سامنے آیا اور اس مسئلے کے حل کی کوششیں شروع ہوئیں، دونوں ملک اس دلدلی ساحلی پٹی کے معاملے پر اس لئے بھی حساس ہیں کہ یہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ایک حصّہ پاکستان کا ہے تو دوسرے پر بھارت قبضہ جمائے بیٹھا ہے اور اس کی بحری تنصیبات ہیں۔

پاکستان کی کوسٹل لائن شاہ بندر سے پاک بھارت کے درمیان متنازعہ سمندری سرحد سرکریک تک دلدلی علاقہ چھہتر ہزار سکوائر کلومیٹر پر محیط ہے۔ سرکریک ایریا قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے اور متنازعہ سرحد کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انتہائی دشوار گزار اور پیچیدہ دلدلی علاقے کا تحفظ کسی بھی چینلج سے کم نہیں، بیس بڑی کریکس اور دلدلی جزائر کی حفاظت کا اہم ترین فریضہ پاک بحریہ کے مستعد میرینز کے ذمے ہے جو دفاع کا یہ فریضہ جدید دفاعی آلات کے ذریعے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔

دوسو چھپن کلومیٹر طویل کریکس ایریا معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے جہاں تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرنے والوں کی حفاظت بھی میرینز کی ذمہ داری ہے، جدید اسلحے اور آلات کے علاوہ فضا سے بھی ہمہ وقت علاقے پر نظر رکھی جاتی ہے۔

واضح حد بندی نہ ہونے کے باعث مچھیرے غلطی سے سمندری سرحد پار کرجاتے ہیں، اس کی روک تھام کیلئے پاک میرینز نے ڈیڑھ کلومیٹر طویل میرین کینال بنائی ہے جس سے ماہی گیروں کو درپیش خطرات کم ہوگئے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top