وزیراعلیٰ سندھ کا کل صوبائی افسران کے ہمراہ دھرنے دینے کا اعلان

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ میئر کے امیدوار کیلئے غیر منتخب رکن پر اعتراض اُٹھانے والے خود اس سے فائدہ اُٹھا چکے ہیں۔ اب منتخب رکن ہی میئر بنے گا جبکہ سیکرٹ بیلٹ کی جگہ شو آف ہینڈ سے ہوگا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کابینہ اجلاس کے بعد صوبائی وزرا سعید غنی اور سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ۔ اس موقع پر مراد علی شاہ نے آئندہ بلدیاتی نظام کے خدو خال واضح کرتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو غلط پیش کیا جارہا ہے۔ بلدیاتی نظام کا قانون بنانے کے لیے وقت کم تھا۔جلدی میں قانون بنایا لیکن اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد سے ڈسٹرکٹ کونسلیں ختم کر دی ہیں ۔ کراچی اور حیدرآباد میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز ہیں جبکہ دیگر میونسپل کارپوریشن ہیں اور شہید بے نظیر آباد ، سکھر اور لاڑکانہ میں ڈسٹرکٹ کونسلیں ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اینی پرسن‘ پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے۔ نعمت اللہ خان اور کنور نوید کیا تھے۔ سب اعتراضات کرنے والے خود اس سے فائدہ اٹھاچکے ہیں۔ میئر کا امیدوار ’اینی پرسن‘ کی جگہ کونسل کا ممبر ہونا پڑے گا۔گدھے گھوڑے آپ کی طرف ہوں گے۔ پریشانی ہے ٹریڈ ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی شق کی وجہ سے سیکرٹ بیلٹ رکھا۔ میئر کا انتخاب شو آف ہینڈ سے ہو گا۔ سیکرٹ بیلٹ میں ہمارا کوئی پس پردہ مقصد نہیں ہے۔ پہلی دسمبر سے پہلے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی قانون دینا تھا۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر اپوزیشن سے ترامیم لی گئیں، ترامیم پیش نہ کی جائیں تو کیسے بل میں شامل کرتے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ گورنر جب بلاتے ہیں تو میں جاتا ہوں۔ گورنر کو بتایا کہ ان کا موقف ٹی وی سے سن چکا ہوں۔ ٹی وی پر کسی سے متعلق بیان دینا یا بتانا مناسب نہیں۔ گورنر سے ملاقات میں کہا آپ کی بات ٹی وی پر سن لی ہے اب چائے پیتے ہیں پھر چلتے ہیں۔ ملاقات میں بلدیاتی نظام کی سمری رد کرنے کے معاملے پر بات ہوئی، میں نے گورنر کو کہا کہ آپ کے جو اعتراضات ہیں وہ لکھ کر بھیجیں جبکہ انہوں نے کہا کہ وہ بل واپس کریں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سعید غنی اپوزیشن سے بات کرنے بھی گئے تھےلیکن اپوزیشن کو ترامیم میں دلچسپی نہیں تھی۔ اپوزیشن کو قانون میں نہیں ہنگامہ آرائی میں دلچسپی ہے۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس لوکل کونسل جمع کریں گی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نہیں کرے گا، 2001 کا ڈیوولوشن کا نہیں ڈیمولیشن کا قانون تھا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری پر وفاقی حکومت نے توثیق کی۔ یہ سندھ کے لوگوں کے ساتھ بہت نا انصافی ہوئی، سندھ کی جوحق تلفی ہو رہی تھی اسے بھی پارلیمنٹ نے بلڈوز کیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی پٹرول کی مہنگائی کےخلاف دھرنا دے گی جس میں وہ خود اپنے افسران کے ہمراہ شریک ہونگے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More