سندھ بجٹ: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافے کا اعلان

کراچی: سندھ حکومت نے مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش کردیا۔بجٹ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیش کیا ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ سندھ کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم 1713 ارب روپے ہے۔تعلیم کیلئے 326 ارب روپے،صحت 219 ارب روپے،زراعت کے لئے 24.1 ارب روپے،ٹرانسپورٹ کے لئے 13.2 ارب روپے اورسالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022 کیلئے 332.165 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

حکومت سندھ نے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 15فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا اعلان
کردیا۔گریڈ 1سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33فیصد ،گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کیلئے 30فیصد اضافےکااعلان کیا گیا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ اگر دیگر صوبوں نے ملازمین کی تنخواہ بڑھائی تو سندھ بھی اضافہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کیلئے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن پر عمل کیا جارہا ہے۔ بنیادی تنخواہ اسکیل 2022 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے ۔پولیس کانسٹیبل کو گریڈ 5 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 7 میں کرنے کا اعلان کردیا۔2016سے 2021 تک وفاقی حکومت کے ملازمین کی طرح ایڈہاک ریلیف الاؤنسز ضم کرنے کا اعلان کردیا۔

سندھ حکومت کا 7سندھ کے اضلاع میں یونیورسٹی یا یونیورسٹی کیمپس قائم کرنے کا اعلان کردیا۔کورنگی، کراچی ویسٹ، کیماڑی، ملیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور سجاول میں مکمل یونیورسٹی یا تسلیم شدہ پبلک یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کورنگی میں ٹیکنالوجی اینڈ اسکلز،ووکیشنل/ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی ہوں گی جبکہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی میں اس یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس ہوں گے۔ملیر میں این ای ڈی یونیورسٹی کا سب کیمپس ہوگا،۔ انہوں نے کہا کہ ٹنڈو محمدخان اور ٹنڈو الہیار کو آئی بی اے کراچی یا سکھر آئی بی اے کے سب کیمپس دیئے جائیں گے جبکہ سجاول میں مہران یونیورسٹی کا سب کیمپس بنایا جائےگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نےمالی سال 23-2022میں 1510 اسکیمیں مکمل کرنے کا اعلانکردیا۔ضلعی اے ڈی پی کا حجم 30 ارب روپے رکھا گیا ہے ،4158 اسکیمیں جن میں 2506 جاری اور 1652 نئی اسکیمیں شامل ہیں ۔تمام اسکیمز کیلئے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جاری 2506 اسکیموں کیلئے 76 فیصد فنڈز یعنی 253.146 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔1652 نئی اسکیموں کیلئے 24 فیصد فنڈز یعنی 79.019 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 5فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئےوزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت سندھ میں صوبے تمام صوبوں کی نسبت پنشن کا تناسب زیادہ ہے ۔اگر کسی اور صوبے میں پنشن میں اضافہ ہواتو ہم بھی کریں گے۔

سید مراد علی شاہ نے بجٹ میں 26.850 ارب روپے کے غریبوں کے سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے پیکیج کا اعلان کیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More