سندھ اسمبلی میں طلبہ تنظیموں پرعائد پابندی ہٹانےکا بل منظور

کراچی: سندھ اسمبلی میں طلبہ تنظیموں پرعائد پابندی ہٹانےکا بل کثرت رائےسے منظور کرلیاگیا۔ سیاست و جمہوریت کی نرسری طلبہ یونین پر 1984میں پابندی لگائی گئی تھی۔

سندھ اسمبلی میں اسٹوڈنٹ یونین بل مکیش کمار چاولہ نے پیش میں کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا ۔ بل کی منظوری کے بعد سندھ کی تمام نجی وسرکاری جامعات ,کالجز میں طلبہ یونینز قائم ہونگی۔ایکٹ کےنافذالعمل ہونےکےدوماہ کےاندر جامعات طلبہ یونین کےقواعد مرتب کرینگی۔ہر سال طلبہ یونین کےالیکشن ہونگے۔

سات سےگیارہ طلبہ کا یونین کےلیےانتخاب ہوگا۔ درسگاہ میں ہڑتال کلاسز کا بائیکاٹ ،اسلحہ لانا،اشتعال انگیزی ممنوع ہوگی۔طلبہ یونین کےنمائندوں کو یونیورسٹی سینیٹ،سنڈیکیٹ میں نمائندگی دی جائےگی۔تکریم اساتذہ،اعلیٰ سماجی اقدار کافروغ ،بامقصد مکالمے کا فروغ طلبہ یونین کی ذمہ داری ہوگی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More