پی ٹی آئی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل چیلنج کردیا

کراچی: پی ٹی آئی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021 چیلنج کردیا، قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اور ایم پی اے خرم شیر زمان کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ آئین کے خلاف ہے آئین کے مطابق تمام اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا لازم ہے،سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ ترمیمی بل آئین کیخلاف ہے۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ ترمیمی بل کو کالعدم قرار دیا جائے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت نے شب خون مارا ہے۔ بلدیاتی ترمیمی بل آئین کی کئی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔ اسمبلی میں ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ چوروں کی طرح چور دروازے سے جلد بازی میں بل پاس کرایا گیا۔ اس کی ابتدا کی چوری سے ہوئی ہے۔ مقامی حکومتوں سے سارے اختیارات واپس لے لیے۔

انہوں نے کہا کہ کتوں کی ویکسینیشن نہیں ہوتی، اپنی اسپتال نہیں چلا سکتے مقامی حکومت کے اسپتال بھی لے لیے۔ لوکل گورنمنٹ کے پاس صرف ٹوائلٹ پر ٹیکس کا اختیار چھوڑا ہے۔ سیکریٹ بیلٹ کی زرئعے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ کھولا گیا ہے۔ اب ایسا شخص کسی گھر والوں نے اہلیہ نے بھی ووٹ نہ دیا ہو وہ بھی میئر بن سکتا ہے۔ مرتضی وہاب جس کی ضمانت ضبط ہوئی وہ بھئ میئر بن جاۓ گا۔ کرپشن اور بیڈ گورننس کی وجہ سے ان کو ووٹ نہیں ملے گا۔ اسلئے سر دارانہ وڈیرانہ اور زر دارانہ نظام ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More