منی لانڈرنگ کیس:شہباز اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔ لاہور کی اسپیشل سنٹرل عدالت نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت ملزمان کی عبوری ضمانت میں اکیس مئی تک توسیع کردی۔

لاہور کی اسپیشل سنٹرل عدالت کے جج اعجاز حسن اعوان نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس پر سماعت کی ۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز عدالت کے رو برو پیش ہوئے۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ وزیراعظم شہباز شریف لندن دورے پر ہیں اس لئے ایک روز کیلئے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آج پھر کارروائی اس وجہ سے آگے نہیں بڑھ رہی کہ شہباز شریف پیش نہیں ہوئے۔ شہباز شریف اپنا شیڈول آگے پیچھے کرلیتے۔

وکیل نے دلائل دئیے کہ شہباز شریف کی وجہ سے ایک بھی پیشی ملتوی نہیں کی گئی۔ شہباز شریف اب ریاست کے سربراہ ہیں، انہیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ شیڈول آگے پیچھے کرلیں۔ وکیل نے دلائل دئیے کہ شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں ایک روپیہ بھی ان متنازع اکاؤنٹس سے نہ آیا نہ نکلوایا گیا۔ ایف آئی آر میں پچیس ارب کی بات کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ مختلف اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ ، پاکستان میں پیسے نکلوانا کونسا جرم ہے؟ مقصود چپڑاسی کی بارے میں بات کرتے ہیں، ایک ملزم ایک الزام میں کتنی بار جیل جائے گا؟ چالان میں رقم کی جو بات کی گئی وہ اثاثوں کی نہیں بلکہ ترسیلات تھیں جو رقم آئی اور چلی گئی۔ عدالت نے شہباز شریف کی ایک دن کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے ملزموں کی عبوری ضمانت میں اکیس مئی تک توسیع کرتے ہوئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو فرد جرم کیلئے دوبارہ طلب کرلیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More