تازہ ترین
اپوزیشن کے مطالبات مان لیے تو احتساب کا عمل بیکار ہوجائے گا، شاہ محمود قریشی

اپوزیشن کے مطالبات مان لیے تو احتساب کا عمل بیکار ہوجائے گا، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: (29 جولائی 2020) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے مطالبات مان لیے تو احتساب کا عمل بیکار ہوجائے گا۔ میں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو پکا راگ سنایا، کرپٹ عناصر پر ہاتھ بھی انشاءاللہ پکا ڈالیں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنے مفادات عزیز ہیں اور وہ چودہ سال کی کارستانیوں پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن بردباری اور حوصلے سے بات سنے اور سنائے۔ فیٹف قوانین پر حکومت کو بلیک میل نہ کیا جائے، ہم نیب قوانین پر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو گری باتیں کی گئیں، انہیں یہاں نہیں دہراؤں گا۔ مجھ پر رنگ بازی کا الزام لگایا گیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ رنگ میں بھنگ ڈال رہے ہیں تاہم میں نے قوالی نہیں بلکہ پکا راگ سنایا ہے۔ عمران خان نے 22 سال کہا کہ ملک کو کرپشن سے پاک کریں گے تو یہ پکا راگ ہے۔ کرپٹ عناصر پر ہاتھ بھی انشاءاللہ پکا ڈالیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا دامن اور نیت صاف ہے۔ ہم نے اپوزیشن کی طرح گاجریں نہیں کھائیں، اس لیے آزاد ہیں۔ اپوزیشن کی 34 ترامیم مان لیں تو احتساب کا عمل بیکار ہو جائے گا۔ ہم بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوانین کیلئے اپوزیشن سے تعاون کی درخواست کی لیکن ان کی آمادگی مشروط تھی۔ ہم نے اپوزیشن کو مسودہ پیش کیا لیکن انہیں پسند نہیں آیا۔ اپوزیشن نیب قوانین میں 34 ترامیم کا تقاضہ کر رہی تھی۔ اپوزیشن کی شرط یہ تھی کہ فیٹف پر قوانین کرانا چاہتے ہیں تو نیب قوانین پر ہماری ترامیم قبول کریں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کا بائیکاٹ اپوزیشن نے کیا تاہم سیاست میں دروازے بند نہیں ہوتے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ اگر ہم بلیک لسٹ میں چلے گئے تو عالمی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ اس کے بڑے بھیانک اثرات ہوں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیربرائے داخلہ واحتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ ماضی میں کرپشن کے دو بڑے چیمپیئن سامنے آئے۔ جعلی اکاؤنٹس کے چیمپئن خاندان کے ساتھ ایک ٹی ٹی شریف خاندان بھی ہے۔ دو سپوت اور خادم اعلیٰ ٹی ٹیز سے بیگمات کیلئے جائیداد خریدتے رہے۔ ایک سابق صدر نے کہا کہ ثابت کرنا ہوگا کہ فالودے والے کو لے کر بینک گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو گرے لسٹ سے نکلنا ایک چیلنج تھا۔ وجہ دیکھنا ہوگی کہ پاکستان کیوں گرے لسٹ میں گیا؟ سابق حکومت نے منی لانڈرنگ اور سہولت کاری کے خلاف قوانین کو فعال نہیں بنایا۔ دو خاندانوں نے چارٹر آف کرپشن کیا ہوا تھا۔

Comments are closed.

Scroll To Top