تازہ ترین
کاش: یہ میرے وطن کا المیہ نہ ہوتا

کاش: یہ میرے وطن کا المیہ نہ ہوتا

کراچی:(تحریر شفقت عزیز ) یوں تو پاکستان میں بہت سے کھیل کھیلے جاتے ہیں، جن میں سرفہرست کرکٹ، ہاکی، فٹبال، ریسلنگ، کبڈی، باکسنگ، اسنوکر،بیڈ منٹن، والی بال، سائیکلنگ،جمناسٹک اور دیگربہت سے کھیل ہیں لیکن کرکٹ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔

ملک کے کسی بھی محلے یا گلی میں جائیں وہاں کرکٹ لازمی کھیلی جارہی ہو گی، ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے لیکن اس کے باوجود کرکٹ سے نوجوانوں کو خاص لگاؤ ہے جس کی وجہ ٹی وی پر نشر ہونے والے کرکٹ میچز اور اس کے بعد ان کھلاڑیوں کی ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اگر بات کی جائے دیگرکھیلوں کی تو اکثر نوجوان یا تو اپنے آپ کو چست رکھنے کے لیے کھیلتے ہیں یا پھر انہیں شوق ہوتاہے۔

گذشتہ سال پاکستان کے لیے ورلڈ اسنوکر چمپئین شپ جیتنے والے محمد آصف نے بھی وزارت کھیل کے رویہ سے دلبرداشتہ ہو کر ملک کے لئے اسنوکر نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔ 1962 سے لے کر 2006تک میں پاکستان کے لئے بہت سے باکسر باکسنگ کرتے تھے لیکن اب یہ رحجان کم ہوتا جا رہاہے۔سید حسین شاہ کراچی سے تعلق رکھنے والے باکسر ہیں جنہوں نے سن 1988 میں جنوبی کوریا میں ہونے والے سیول اولمپکس میں برانز میڈل جیتا، یہ برانز میڈل اولمپکس میں پاکستان کا سب سے پہلا میڈل تھا،حسین شاہ جنہوں نے 1984 سے 1991 کے درمیان ساؤتھ ایشیئن گیمز میں لگاتار پانچ طلائی تمغے بھی جیتے تھے اور انہیں حکومت ستارہ امتیاز سے بھی نواز گیا تھا،تاہم وہ بھی پاکستان میں باکسنگ کا مستقبل نہ ہونے کے سبب 1994 میں جاپان منتقل ہو گئے اور اب وہاں کوچنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

شاہ حسین نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت باکسنگ کی تباہی کی ذمہ دار باکسنگ فیڈریشن کے دو دھڑے ہیں جو اپنی سیاست کے آگے سب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں کھلاڑی مایوس ہو کر باکسنگ سے کنارہ کشی اختیار کر رہےہیں،انہوں نے کہا کہ اگر مجھے پاکستان سے کوچنگ کی آفر ہوئی تو ضرور قبول کروں گا لیکن اگر فیڈریشن سیاست سے پاک ہو تومیں یہ کام کروں گا ورنہ نہیں۔

انہوں نے سابق باکسنگ پلئیر رشید قمبرانی کا ذکر کیا جوسیف گیمزایشینز گیمز میں پاکستان کے لئے کئی میڈل جیت چکے ہیں چند ماہ قبل انہیں پاکستان اسٹیل مل کے گیٹ پر چوکیدار بنا کر کھڑا کر دیا گیا اس حوالے سے جب رشید قمبرانی سے بات ہوئی توان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے لئے لڑا ملک کا نام روشن کیا بیرونی ملک کی آفرز کو ٹھکرایا اور اسکا صلہ یہ ملا کہ مجھے چوکیدار بنا دیا گیا جب یہ خبر میڈیا پر چلی تو مجھے کسی اور شعبے بھیج دیا گیا،شاہ حسین کہتے ہیں کہ اگر میں بھی ملک میں ہوتا تو کہیں چوکیداری کر رہا ہوتا۔باکسنگ کے ایک اور نامور کھلاڑی ضیغم مثیل جنہوں نے 1986 سے لے کر 1996تک ملک کےلئے کھیلا اور کئی طلائی، کانسی، چاندی کے میڈل ملک کو دئیے لیکن وہ بھی باکسنگ فیڈریشن کےروئیے سے دلبرداشتہ ہو کر ملک چھوڑ گئے اور بحرین میں کوچنگ کے فرائض انجام دے رہےہیں۔

ضیغم مثیل کہتے ہیں کہ پاکستان میں باکسنگ کے کھلاڑیوں کو انصاف سے نہیں کھلایا جاتا، سفارش کا کلچرعام ہے، وہ کہتے ہیں کہ کوچنگ پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کھلاڑی کی کیریکٹر بلڈنگ تب ہی اچھی ہو گی اگر کوچ اچھا ہو گا۔

کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنےوالے باکسر علی بخش جنھوں نے 1962 میں باکسنگ شروع کی اور 14 سال تک کئی عالمی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کیا وہ آج بھی لیاری میں باکسنگ کلب بنا کر نوجوانوں کو تربیت سےکررہے ہیں،علی کہتے ہیں کہ 1999سے 2003 تک جاپان میں کوچنگ کے فرائض سرانجام دئیے ہیں لیکن ملک سے محبت انہیں پاکستان واپس کھینچ لائی اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت باکسنگ کے نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت دے رہے ہیں۔علی بخش نے بتایا کہ ملک میں بس اب کرکٹ کامستقبل ہے، ہرنوجوان کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے کرکٹ میں پیسہ بھی ہے اور گلیمرس بھی۔ پی سی بی کو اربوں میں فنڈز ملتے ہیں لیکن باکسنگ فیڈریشن کو شاید اتنا فنڈ نہیں ملتا۔ لیاری کے نوجوانب اکسنگ یا فٹ بال اس لیے کھیلتے تھے کہ نوکری مل جائے پہلے مختلف ادارے جیسے کےالیکٹرک، کے پی ٹی، مختلف بینکوں کی باکسنگ ٹیمیں ہوا کرتی تھیں نوجوانوں کو اس میں نوکری بھی ملتی تھی لیکن اب اداروں نے ٹیمیں ختم کر دیں جس سے باکسنگ مزید زوال پذیر ہو گیا۔علی بخش کا کہنا ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ لیاری کے نوجوان نشے کے عادی نہ ہو جائیں کیونکہ لیاری میں نشہ عام بکتا ہے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے قومی باکسر محمد وسیم بھی فیڈریشن سے دلبرداشتہ ہو تے ہوئے امیچیور باکسنگ چھوڑ کر پروفیشنل باکسنگ کو اپنا لیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ 1998 میں میں نے باکسنگ کھیلنا شروع کیا اور 2014 میں ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا لیکن فیڈریشن میں سیاست اور حق تلفی دیکھ کر پروفیشنل باکسنگ میں آ گیا اور اب میں کوریا کی کمپنی کی جانب سے کھیلتا ہوں۔اگر میں پاکستان میں امیچیور باکسنگ کھیل رہا ہوتا تو کسی کمپنی میں سییکورٹی گارڈ ہوتا،محمد وسیم کہتے ہیں کہ کورونا وائرس سے قبل جب باکسنگ کیمپ لگتا تھا تو باکسرز کا ماہانہ وظیفہ دوہزار سے پچیس سو روپے تک تھا اس سے اندازہ لگائیں کہ باکسرز کو کتنی مشکلات ہیں۔ میں وزیراعظم پاکستان جو خود بھی ایک کھلاڑی ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ ملک کے لئے کھیلنے والی تمام کھیلوں کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں انہیں عزت دیں کیونکہ یہی کھلاڑی ملک کا نام روشن کریں گے۔ پڑوسی ملک کے باکسرز کو سرکاری نوکریاں ملتی ہیں ان پر فلمیں بنائی جا رہی ہیں اور پاکستان میں باکسرزچوکیداری کرنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان باکسنگ کے فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل کرنل ریٹائرڈ ناصر تنگ کہتے ہیں کہ پاکستانی باکسنگ کو عروج پر پہنچانے میں پروفیسر انورچوہدری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

پروفیسر انورچوہدری باکسنگ کی دنیا کی ہمہ جہت شخصیت تھے جنھوں نے اس کھیل کو بین الاقوامی سطح پرشناخت اور تعظیم دلائی۔ وہ انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن ( آئبا) کے 20 سال تک صدر رہے۔وہ عالمی تنظیم کے بارہ سال سیکریٹری اور آٹھ سال نائب صدر بھی رہے۔ان کے انتقال کے بعدپاکستان میں باکسنگ کا زوال شروع ہوا 2008 کے بعد سے کوئ بھی باکسر کسی عالمی مقابلے میں شامل نہ ہو سکا۔ناصر تنگ کہتے ہیں کہ ان کے فیڈریشن میں آنے سے پہلے فیڈریشن میں انتظامی بنیاد پر مسائل رہے ہیں لیکن اب وہ مسائل نہیں لیکن ہمارے پاس وسائل کی بے حد کمی ہے جب سےمیں فیڈریشن کا حصہ بنا ہوں باکسنگ کی بہتری کوشش کر دی ہیں وزیراعظم پاکستان کو خط لکھا ہے کہ وہ باکسنگ پر توجہ دیں اور گرانٹ جاری کریں تاکہ ہم باکسرز کو وظیفہ دیں کیونکہ جب تک باکسرزمالی طور پر مستحکم نہ ہوں گے وہ باکسنگ نہیں کھیل سکیں گے۔

ناصر تنگ کہتے ہیں کہ ملک میں جلد پاکستان باکسنگ لیگ کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے باکسرز حصہ لیں گے اس پر کام جاری ہے جس کے بعد دوسری لیگ میں عالمی باکسرز کو دعوت دیں گے تاکہ ملک بھر میں باکسنگ کوفروغ مل سکے۔ کرنل تنگ کہتے ہیں کہ جس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کو فنڈز ملتے ہیں اسی طرح باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کو بھی گرانٹ ملے تو یقیناً ہم اچھے کھلاڑی پیدا کر سکتے ہیں کیونک ہمارے ملک ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔

سندھ باکسنگ ایسویسی ایشن کے سیکرٹری اصغر بلوچ کہتے ہیں کہ کراچی میں لیاری باکسنگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے پاس وسائل نہیں اپنی مدد آپ کے تحت ہم نوجوانوں کو تیار کرتے ہیں کیمپ لگاتے ہیں، حال ہی میں سیف گیمز میں لیاری کی دو بچیوں رضیہ بانو اور مہرین نے باکسنگ میں کانسی کے تمغے جیتے۔اصغر بلوچ کہتے ہیں کہ جس طرح پی سی بی کو گرانٹ ملتی ہے اسی طرح جو ملک میں کھیلوں کی تنظیموں کو بھی گرانٹ ملے تو یقیناً ہر کھیل میں اچھے کھلاڑی سامنے آئیں گے۔

سندھ کے صوبائی سیکرٹری برائے کھیل امتیاز علی شاہ سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ کھیلوں کے فروغ کے لئے کام کیا ہے کھیلوں کی تنظیمیں ہمیں گائیڈ کرتی ہیں اور ہم انہیں مکمل سپورٹ کرتے ہیں صوبے میں ہونے والے مقابلوں کو باقاعدہ سندھ حکومت منعقد کراتی ہے اور میں بھی مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشن سے رابطے میں رہتا ہوں کیونکہ کھیلوں سے نوجوان آگے بڑھتے ہیں اور ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔

باکسنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم شہر میں ایک عالمی معیار کا باکسنگ رنگ بنائیں تاکہ یہاں پر باکسنگ کا عالمی مقابلہ کرایا جائے اس سے نوجوانوں میں باکسنگ کا فروغ بڑھے گا، انہوں نے مزید کہا کہ ہم سندھ باکسنگ ایسیوسی ایشن سمیت کھیل کی مختلف تنظیموں کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top