منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔ لاہور کی اسپیشل سنٹرل عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت ملزمان کی عبوری ضمانت میں دس مارچ تک توسیع کردی۔ عدالت نے ملزموں کے وکلا کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر دائرہ اختیار کی درخواست واپس لیں یا اس پر بحث کریں۔

ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز عبوری ضمانت کیلئے اسپیشل سنٹرل عدالت میں پیش ہوئے۔ امجد پرویز کی بیماری کے باعث حمزہ شہباز کی جانب سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وکالت نامہ جمع کروایا۔ ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر سکندر ذوالقرنین سلیم نے استدعا کی کہ کیس کی روانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزموں کو چالان میں واضح کاپیاں فراہم کردی ہیں۔ کمپیوٹر فائل بھی فراہم کردیتے ہیں جبکہ انیس سو اٹھاون کی ترمیم کے مطابق ملزم واضح کاپیاں لینے کے اہل نہیں ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ بولے پھر قانون میں بھی تبدیلی کروا دیں، آپ کاپیاں فراہم نہ کریں، ہمارا ہی فائدہ ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا ان کو ابھی لانگ مارچ نظر آرہا ہے۔ آشیانہ، صاف پانی، آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز بنائے گئے جبکہ ذاتی اناء کی وجہ سے ایف آئی اے نے دوبارہ یہ کیس تیار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پہلے فرد جرم عائد ہوگی پھر ہی دیکھیں گے کہ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرنی ہے یا نہیں۔ا سپیشل جج سنٹرل اعجاز حسن اعوان نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت ملزمان کی عبوری ضمانت میں دس مارچ تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More