وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ایرانی وزیر داخلہ کی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف سے ایران کے وزیر داخلہ احمد وحیدی نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم عمران خان سے ایرانی وزیر داخلہ احمد وحیدی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی، وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔وزیراعظم عمران خان نے ایرانی وزیر داخلہ کے اسلام آباد کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ سرحدوں کی امن اور سلامتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کی مضبوطی بالخصوص مشترکہ سرحدوں میں تجارت کو آسان بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے افغانستان کی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فوجی حل اس ملک کے مسائل کا حل نہیں رہا اور اب عالمی برادری کو افغان عوام کو شدید انسانی اور معاشی بحران سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ ایران کے وزیر داخلہ احمد وحیدی نے کہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث گروپ اور عناصرانسانیت کے دشمن ہیں۔ پاکستان پر دہشت گرد حملے کو ایران پر حملے کے برابر سمجھتے ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی جس میں جیو اسٹریٹجک ، علاقائی سلامتی کی صورتحال،دفاع، سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ پاک ایران سرحدی سیکیورٹی میکنزم پر بھی گفتگو کی گئی ۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی سرحد ہے۔ پاک ایران سرحد پر دہشتگردوں کو پنپنے نہیں دیں گے۔دونوں برادر ہمسایوں کے درمیان تعاون میں اضافہ امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے جبکہ ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مستحکم افغانستان خطے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خطے کے امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More