سینیٹ کمیٹی کااجلاس:ارکان کاایک دوسرے پر پیسے دے کر سینیٹر بننے کا الزام

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس میں تحریک انصاف اور اتحادی حکومت کے سینیٹرز آپس میں الجھ پڑے۔ سینیٹرز نے ایک دوسرے پر پیسے دے کر سینیٹر بننے کا الزام عائد کر دیا۔ چیئرمین کمیٹی اور شبلی فراز کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس قائم مقام چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رہنماء شہباز گل کی اہلیہ کی ڈگری کے معاملے پر بحث ہوئی۔ قائم مقام چیئرمین کمیٹی افنان اللہ اور پی ٹی آئی سینیٹرز کے درمیان بات تلخ کلامی تک پہنچ گئی۔ سینیٹرز نے ایک دوسرے پر پیسے لے کر سینیٹر بننے کا الزام عائد کر دیا۔

شبلی فراز، سینیٹر فوزیہ ارشد اور ڈاکٹر ہمایوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیفالٹرز کا کیس سننا ہے تو سب کا سنیں، کیا جس کیخلاف کیس ہے وہ کمیٹی میں موجود ہے ؟ کمیٹی کسی کی عدم موجودگی میں معاملے کو نہیں سن سکتی، کسی کے ذاتی معاملے کو ڈسکس نہیں کیا جا سکتا۔

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کا معاملہ کمیٹی سن سکتی ہے۔ جس پر سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ بہت سے دوسرے بھی ڈیفالٹرز ہیں لیکن ایک شخص کا نام کیوں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ بات نہیں سننا چاہتے تو آپ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرلیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ کرپشن کو ڈیفنڈ کریں گے۔

شبلی فراز نے کہا کہ کسی ایک شخص کیخلاف سیاسی بنیادوں پر فیصلہ، معاملہ اچھالا جا رہا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ آپ اپنے بیٹی بھائی کی کرپشن کو ڈیفنڈ کر رہے ہیں، آپ پیسے دے کر سینیٹر بنے ہیں۔ اس پر شبلی فراز نے کہا کہ آپ گالیاں دے کر سینیٹر بنے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More