تازہ ترین
کلبھوشن سے متعلق عالمی عدالت انصاف نظرثانی آرڈیننس سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کی شدید تنقید

کلبھوشن سے متعلق عالمی عدالت انصاف نظرثانی آرڈیننس سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کی شدید تنقید

اسلام آباد: (29 جولائی 2020) کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف نظرثانی آرڈیننس سینیٹ میں پیش کردیا گیا۔ اپوزیشن نے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے حکومت کی ڈوریاں ہلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کیلئے آرڈیننس آیا وہ بھارتی جاسوس اور دہشتگرد ہے۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف نظر ثانی آرڈیننس پیش کیا۔ اپوزیشن نے اس آرڈینس پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ اب ہماری ڈوریاں انٹرنیشل اسٹیبلشمنٹ ہلا رہی ہے۔ جس شخص کیلئے یہ آرڈیننس آیا وہ بھارتی جاسوس اور دہشتگرد ہے۔ اس آرڈینس کے ذریعے فوجی عدالت کی سزا پر ہائیکورٹ کے ذریعے نظرثانی کا راستہ نکالا جاتا ہے۔ دو دہشتگردوں کیلئے الگ الگ قانون کیوں ہے؟

وزیر قانون فروغ نسیم نے ڈوریاں ہلائے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ذمہ دار قوم کے طور پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کیا۔ ہم اگر فیصلہ نہ مانتے تو بھارت یو این میں ہمارے خلاف قرارداد لاتا۔ آرڈیننس کے تحت کلبھوشن کو کوئی رعایت نہیں دی جارہی۔

سینیٹرز پرویز رشید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کلبوشن یادیو کو اپنے ہاتھ سے پھانسی دینی تھی۔ وزیر قانون صاحب سے پوچھنا تھا کہ وزیراعظم اس رسی کے ساتھ اب کیا کریں گے؟

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ حکومت ابھی نندن کو 24 گھنٹے سے زیادہ پاس نہ رکھ سکی۔ کلبھوشن کو بھی اسی طرح کی سہولت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دو لوگ آج چھوڑ کر چلے گئے۔ حکومت کا ایک اور استعفیٰ آنے والا ہے۔ فروغ نسیم کے پاس نیپال کی گیڈر سنگھی ہے کہ چار دفعہ وزیر بنے۔

وزیرمملکت علی محمد خان نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020ء اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل ایکٹ ترمیمی بل 2020ء ایوان بالا میں پیش کیے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیئے۔

وزیرقانون فروغ نسیم نے وضاحت کی کہ ایم کیو ایم پاکستان کا اب بانی ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان بانی ایم کیو ایم سے اپنے راستے جدا کرچکی ہے۔

بعدازاں سینیٹ کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top