سینیٹ:رضا ربانی کا احتجاجاً بجٹ پر بحث کرنے سے انکار

اسلام آباد: سینیٹ میں وزرا کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی بھی میدان میں آ گئے ۔ پیپلز پارٹی کے رضا ربانی نے احتجاجاً بجٹ پر اظہار خیال کرنے سے ہی انکار کردیا۔اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے ایوان سے غیر حاضر وزرا کو لاپتا افراد قرار دیتے ہوئے انکی بازیابی کا مطالبہ کردیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دینے کا دعوی بھی کیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں سلیم مانڈوی والا نے دعوی کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں کو اس کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔چیئرمین سینیٹ نے بجٹ پر بحث کا کہا تو قائد حزب اختلاف نے وزرا کی اجلاس میں غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں کوئی وزیر نہیں کیا دیواروں سے باتیں کریں۔بجٹ پر بحث ہے لیکن بھاری بھرکم کابینہ میں سے وزیر نہیں آرہے۔

وزرا کی عدم موجودگی پر حکومتی اتحادی بھی بول پڑے،رضا ربانی اپنے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بولے میں نے ایک وزیر کو عارضی معطل بھی کیا تھا۔ چیئرمین سینیٹ کو وزراء کی اجلاس میں عدم دلچسپی پر وزیراعظم سے بات کر نے کا مشورہ دیتے ہوئے رضا ربانی نے احتجاجاً بجٹ پر بحث کرنے سے انکار کر دیا۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ لوگ بیرون ملک اثاثے بیچ کر پیسہ ملک واپس لائیں تو ہم بھی اسمبلی میں آنے کو تیار ہیں مجھے یہ لگتا ہے اس حکومت کا یہ آخری ماہ ہے قوم الیکشن چاہتی ہے۔عوام کے ووٹوں اور اعتماد سے آنے والی حکومت ہی معیشت بہتر کرے گی۔

سینیٹر ہدایت اللہ،علی ظفر ،اور دیگر نے کہا کہ ملک کی معیشت بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔اراکین پارلیمنٹ سب مالدار ہیں۔بیرون اور اندرون ملک اثاثوں کا نصف سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔صاحب ثروت دو دو تولے سونا بھی جمع کرائیں تو سرکاری خزانہ بھرا جا سکتا ہے۔ یہ عارضی بجٹ ہے جو آئی ایم ایف کو تسلی دینےکیلئے بنایا گیا ۔

صابر شاہ نے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑوں کے پہاڑ جلتے جارہے ہیں۔ اس پر فوراً ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور متعلقہ محکموں سے آگ لگنے کا سبب دریافت کیا جائے۔اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاجاً موجود افغان مہاجرین سے متعلق معاملہ سینیٹر عبد القادر نے اٹھایا ۔جس پر سینیٹ نے وزرات داخلہ ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو رپورٹ سینیٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی ، سینیٹ کا اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More