سینیٹ:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر اپوزیشن کا احتجاج، شور شرابہ ، ارکان کا چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کا گھیراؤ ، امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعرے بھی لگائے ۔ حکومتی اراکین نے آئی ایم ایف معاہدوں کو گزشتہ حکومت سے جوڑتے ہوئے بجلی کے نرخ میں اضافہ کو بھی اسی پروگرام کا حصہ قرار دیدیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پہلے علامتی واک آؤٹ اور پھر چیئرمین ڈائس کے سامنے پلے کارڈز اٹھا کر شدید احتجاج کیا۔اپوزیشن اراکین کی جانب سے نعرے بازی نہ رکنے پر چیئرمین سینیٹ نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو طلب کرلیا جنہوں نے چیئرمین سینیٹ کے سامنے حفاظتی حصار بنالیا۔ چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دی کہ سینیٹرز اپنی نشستوں پر واپس جاکر احتجاج کریں بصورت دیگر انہیں معطل کردیا جائے گا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی حکومت نہیں جو آئی ایم ایف کی شرائط پوری کررہی ہے بعض معاملات پر ہم نے آئی ایم ایف سے اپنی موقف تسلیم کروایا۔ پی ٹی آئی نے تہیہ کیا تھا کہ عام لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالنا۔ میری تجویز ہے موجودہ حکومت مستعفی ہو اور نئے الیکشن کی تاریخ دیں ۔وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا بولیں، کل اپوزیشن کہہ رہی تھی کہ آئی ایم ایف کے بغیر آگے بڑھ ہی نہیں سکتے جو یہ کل کہہ رہے تھے آج بالکل اس کے برعکس کہہ رہے ہیں۔ معیشت پر سیاست نہ کی جائے،عائشہ غوث پاشا کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے پھر نعرے لگائے جس کے بعد ایوان کی کاروائی پیر سہہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More