عمران خان کے ملک اور اداروں کیخلاف بیان پرسینٹ میں تحریک التوا

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملک اور اداروں کیخلاف بیان پر ایوان بالا میں حکومت تحریک التوا لے آئی ۔سینٹرز نے عمران خان کے پاکستان مخالف بیان پر شدید مذمت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان تحریک انصاف کے ارکان بیان کا دفاع کرتے رہے کہا۔انکا کہنا ہے کہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بتایا جا رہا ہے ۔

چیرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو ۔۔حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیان اور خدشات پر، تحریک التو پیش کر دی۔ بحث کے دوران قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کے بیان کو ملک پر حملے کے مترادف قرار دیا ۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ادوار میں اپنی پارٹی کے ساتھ ہونے والے سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا ہم نے جیلیں برداشت کیں ،زوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا ،بینظیر شہید ہوئی ہم نے آج تک ایسا بیان نہیں دیا۔انہوں نے عمران خان سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے ایک دوسرے پر لفظی تکرار بھی جاری رہی ۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا عمران خان کے بیان سے دلی افسوس ہوا اسٹبلشمنٹ کو درست فیصلوں کا تو کہالیکن اسکی نشاندہی نہیں کی ۔سینیٹر بہرہ مند تنگی نے بیان کو ملک کے ساتھ غداری قراد دیتے ہوئے کہا عمران خان نے مودی کی ترجمانی کی ہے۔

ایوان مین بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم شبلی فراز اور دیگر پی ٹی آیی اراکین کا سابق وزیر اعظم کے بیان کا دفاع کہا عمران خان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ایوان بالا میں توجہ دلاو نوٹس پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی معاشی پالیسوں کا دفاع کرتے ہوئے آیی ایم ایف مذاکرات ڈی ٹریک کا معاملہ موجودہ حکومت پر ڈال دیا وزیر مملکت عائشہ غوث نے کہا گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدوں سے انحراف کیا۔اجلاس میں مختلف کمیٹیوں کی رپورٹس بھی پیش کی گئی ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More