سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بچوں کے دودھ پر سیلز ٹیکس کی تجویز مسترد کردی

اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بچوں کے دودھ پر سیلز ٹیکس اور ملک میں سونے کی درآمد شروع ہونے تک زیوارات پر سیلزٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی۔

اسلام آباد میں سینٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا ضمنی فنانس بل پر غور کیلئے اجلاس ہوا ۔قائمہ کمیٹی نے بچوں کے فارمولہ ملک پر 17 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ متفقہ طور پر مسترد کر دیا ۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چاہیے آئی ایم ایف کہے ہم یہ ٹیکس نہیں لگنے دیں گے۔ پاکستان میں ایک ہزار میں سے 137 بچے مر جاتے ہیں۔ مائیں بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتیں جبکہ فارمولہ دودھ متبادل ہے۔

ایف بی آر حکام کا موقف تھا کہ بے بی فارمولہ دودھ کا استعمال ایک فیشن بن چکا ہے۔ مارکیٹ میں 600 سے 14 ہزار روپے تک کا دودھ فروخت ہورہا ہے تاہم کمیٹی نے بچوں کے فارمولہ دودھ پر ٹیکس کی سختی سے مخالفت کر دی ۔

کمیٹی نے جیولر ایسوسی ایشن کے اس انکشاف کے بعد کہ ملک میں استعمال ہونے والا تمام سونا سمگل ہوتا ہے زیورات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی ۔جیولر ایسوسی ایشن کی طرف سے بتایا گیا کہ ملک میں 36 ہزار جیولرز میں سے 54 لوگ ایکٹو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔پاکستان میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگل ہوتا ہے۔ ملک میں سونے کی قانونی درآمد کی اجازت ہی نہیں ہے ۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سارا سونا سمگل ہو کر آ رہا ہے اس پر ٹیکس عائد کس طرح ہو سکتا ہے۔ ایف بی آر اور کسٹمز حکام اس سمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات کریں جبکہ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بھتہ خوری اور ٹیکس وصولی میں فرق ہونا چاہیے پہلے سونے کی درآمد کو قانونی بنائیں پر ٹیکس عائد کریں ۔کمیٹی نے ادویات کے خام مال کی درآمد پر ٹیکس عائد کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ ڈریپ کا موقف تھا کہ سیلز ٹیکس عائد ہونے سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More