سینیٹ:حکومت نے آئی ایم ایف کا بجٹ پیش کیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر شیری رحمان نے سینیٹ اجلاس میں اعتراف کیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کا بجٹ پیش کیا جس پر پی ٹی آئی شکریہ کی حقدار ہے، وزیر مملکت خزانہ کہتی ہیں ہم آئی ایم ایف کے معاہدے سے پیچھے کیوں ہٹیں، قیمتوں میں اضافے کا معاہدہ پی ٹی آئی نے کیا۔ سینٹر رضا ربانی نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر جوائنٹ سیشن بلانے کا مطالبہ کردیا۔

سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہا گیا کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ پیش کیا، پاکستان کی کونسی حکومت آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ لائی؟ ان کا کہنا تھا کوئی ابہام نہ رہے یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جس پر پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ابتک پاکستان آئی ایم ایف کے 23 بجٹ لاچکا ہے، آپ اپنی نالائقی ہم پر ڈال رہے ہیں۔

وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ پی ٹی آئی قیمتوں میں اضافے کا معاہدہ کر کے گئی تھی، ہم ائی ایم ایف سے پیچھے کیوں ہٹیں یہ کوئی بچوں کا کھیل تو نہیں، جو معاہدہ کیا ہے اسے پورا کرنا ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا ہم سب کی تجاویز کو سننے کو تیار ہیں، آئیے ہم سب ساتھ ملکر بیٹھیں، سیاست نہ کریں تجاویز دیں۔

سنیٹر مشتاق نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا، جب معاہدہ ہوجایے گا تو انگوٹھا لگانے کیلئے پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔ کل کون سی کمیٹی کا اجلاس ہوا؟ میں بھی قومی سلامتی کیمٹی کا ممبر ہوں مجھے نہیں بلایا گیا۔

سینٹر رضا ربانی نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر جوائنٹ سیشن بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ایک طرف ٹی ٹی ٹی پی سے بات دوسری طرف اپنے ہی لوگ جیلوں میں ہیں، علی وزیر کے ساتھ بات کی جائے انہیں پارلیمنٹ بجٹ سیشن میں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے دو مرتبہ کورم کی نشاندہی کی لیکن دونوں مرتبہ کورم مکمل نکلا جس پر ایوان کی کاروائی جاری رہی۔سینیٹ اجلاس غیرمعینہ تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More