سینیٹ میں وزرا کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد: سینیٹ میں وزرا کی عدم موجودگی پر اپوزیشن اراکین کا احتجاج، وزرا کی موجودگی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی بولے تمام امور کا دباؤ وزیر مملکت علی محمد خان پر ہے۔ قائد ایوان شہزاد وسیم کا کہنا تھا جہاں ضروری ہو وزرا آتے ہیں اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ آپ کی زیارتوں کے لیے آتے۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں رضاربانی اور مشتاق احمد سمیت اپوزیشن اراکین نے وزرا کی عدم موجوگی کی طرف چیئرمین کی توجہ دلائی۔ یوسف رضا گیلانی بولے وزرا کو سینیٹ اجلاس میں آکر بیٹھنا چاہیئے سارا بوجھ علی محمد خان پر ہے۔ گزشتہ اجلاس میں ایک وزیر کا دیدار میری وجہ سے ہوا۔

قائد ایوان سینیٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ پالیسی بیان کی ضرورت پر شاہ محمود قریشی بھی آتے ہیں۔ خوش فہمی میں نہ رہیں کہ وزیر یہاں آپکی زیارتوں کیلئے آتے ہیں۔ آپ نادرا کا سوال فوج پر لے گئے فوج بھی اسی ملک کی ہے وردی اور بغیر وردی والی بات چھوڑیں۔ جواباً یوسف رضا گیلانی بولے ہم فوج کے خلاف نہیں یہ پاکستان کی فوج ہے مسئلہ کشمیر جیسے عالمی تنازعہ پر شاہ محمود کیوں نہیں آئے۔

پیپلز پارٹی کے رضا ربانی نے قومی سلامتی پالیسی کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کردیا بولے حکومت نے پارلیمنٹ اور صوبوں کو اعتماد میں لیئے بغیر قومی سلامتی پالیسی کا اعلان کیا۔ اعلان کردہ پالیسی پر صوبوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ہم ریاست کو اجازت نہیں دے سکتے وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیئے بغیر ملکی سلامتی کی پالیسی تشکیل دی جائے۔

وزیر ریلوے اعظم سواتی نے بتایا کہ ریلوے منافع بخش ادارہ تھا جتنے نقصانات ہوئے اس میں بڑا نقصان افرادی قوت کی بھرمار ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ ریلوے میں سترہ گریڈ کی افسر کے گھر چھ ملازمین تھے یہ سب سیاسی بھرتیاں ہیں۔ سینٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More