ملک کے مجموعی قرضوں کا بوجھ اکتالیس ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے سینیٹ کو بتایا کہ ملک کے مجموعی قرضوں کا بوجھ اکتالیس ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ہفتے میں تین روز نہیں بلکہ روزانہ کھانے کے مختلف اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائے گی۔وزیر توانائی حماد اظہر کا سینیٹ میں بیان، وزیر پارلیمانی امور کہتے ہیں احساس کفالت پروگرام کی وجہ سے غربت کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے وزارت خزانہ نے سینیٹ کو بتایا کہ رواں سال اگست تک ملک کے مجموعی قرضوں کا حجم اکتالیس ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کا اندرونی قرضہ چھبیس ہزار ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم چودہ ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

ملک میں غربت کی شرح سے متعلق تفصیل پیش کرتے ہوئے وزارت منصوبہ بندی نے بتایا کہ دوہزار اٹھارہ انیس کے سروے کے مطابق غربت کی شرح میں کمی آئی ہے۔ دوہزار اکیس بائیس کے سالانہ منصوبے میں توقع ظاہر کی ہے کہ احساس کفالت پروگرام کی وجہ سے غربت میں دو درجے کی کمی کا امکان ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے بتایا گیا کہ مالی سال دوہزار اٹھارہ انیس میں بھارت سے باہمی تجارت کا حجم ایک ارب 76 کروڑ ڈالر سے زائد رہا جو اگلے مالی سال میں چھتیس کروڑ ڈالر رہ گیا۔ مالی سال دوہزار بیس اکیس میں بھارت سے باہمی تجارت انتیس کروڑ ڈالر رہی۔

وزارت تجارت کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی جانب سے درآمدات پر دو سو فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد پاکستان سے بھارت کو دیا گیا موسٹ فیورڈ نیشن کا اسٹیٹس واپس لے لیا۔ وزارت تجارت کے مطابق پانچ اگست دوہزار انیس کے واقعے کے بعد سے پاکستان نے بھارت سے تجارت معطل کر رکھی ہے۔

شیری رحمان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بتایا کہ سردیوں میں روزآنہ ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے دوران گیس دستیاب ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ روس کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔ پاکستان میں اٹھائیس فیصد گھرانوں کو گیس کی سہولت میسر ہے۔

فیڈرل پبلک سروس کی دو ہزار اٹھارہ انیس کے لیے سالانہ رپورٹ سمیت سینیٹ میں پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی وسائل ترمیمی آرڈیننس اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اتھارٹی ترمیمی آرڈیننسز پیش کیئے گیئے۔ سینیٹ اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More