سینیٹ قائمہ کمیٹی:جوتوں کی کمپنی پر چھاپوں کی رپورٹ طلب

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، اراکین کی جانب سے جوتوں کی مقامی کمپنی کے دفتر اور مالکان کے گھر پر ایف بی آر کے چھاپوں اور تفتیش پر اظہار برہمی۔

کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندہ کو ہراساں کیا گیا اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے تردید، بولے ٹیکس حکام نے تمام کاروائی قانونی دائرہ کار میں کی۔ کمیٹی نے چیئرمین ایف بی آر سے اس معاملے پر دس جنوری کو رپورٹ طلب کر لی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کو عوامی درخواست کی سماعت کی گئی ایک مقامی کمپنی میٹرو شوز کے مالکان نے بتایا کہ نو دسمبر کو اسلام آباد ٹیکس آفس نے بغیر نوٹس اور وارنٹ انکے آفس پر چھاپہ مارا گیا اور خلاف ایف بی آر درج کرائی گی کمپنی پر الزام ہے کہ انھوں نے ٹیکس بچانے کیلئے پوائنٹ آف سیل او ایس نظام میں چھیڑ خانی کی ہمارے گھر پر بھی چھاپہ مار گیا اور ذاتی ملازمین کو حراست میں لیا گیا بیٹی کے سسرال اور بیٹے کی منگیتر کی تفصیلات لی گئیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایاکہ کاروائی بالکل جائز طریقے سے کی گئی تھی۔ ہمیں پوائنٹ آف سیل کے ساتھ چھیڑخانی کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ہر ساتویں خریداری کے بعد آٹھویں فروخت کو رجسٹر کیا جارہا تھا۔ ملازمین سے بے نامی اکاؤنٹس سے متعلق تفتیش کی گئی۔

سینیٹر مصدق ملک نے پوچھا کہ گھر پر چھاپہ کس قانون کے تحت مارا گیا اگر پی او ایس نظام میں چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے تو ایف بی آر کے نظام پر سوالیہ نشان ہے کمیٹی نے ایف بی آر کو آئندہ پیر کو اجلاس میں کیس کی مکمل معلومات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اس سے قبل اجلاس میں کمیٹی نے شمشی توانائی کے پینل اور آلات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے آبپاشی اور گرین ہاؤسز کے سامان پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دیدی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More