تازہ ترین
فساد فی الارض پر معاونت کیلئے عدالتی معاون مقرر کرنے کا حکم

فساد فی الارض پر معاونت کیلئے عدالتی معاون مقرر کرنے کا حکم

اسلام آباد:(15 ستمبر 2020)جیلوں میں قید دہشت گردی کے ملزمان کی سزاؤں میں کمی سے متعلق سماعت پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے جو قیدی پڑھ لکھ کر اچھے انسان بننا چاہتے ہیں انہیں موقع ملنا چاہیے ورنہ وہ پکے دہشت گرد بن جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں دہشت گردی میں ملوث ملزمان کی سزا میں کمی سے متعلق اپیلوں پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دو ہزار چھ میں قانون میں ترمیم کی گئی جس کے بعد سزا میں کمی کو ختم کر دیا گیا، تاہم اس سے پہلے والے ملزمان کو سزا میں کمی کا حق ملنا چاہئے، جو لوگ ہنر سیکھ کر یا پڑھ کر اچھا انسان بننا چاہتے ان کو تو موقع دینا چاہئے،اگر ایسے ملزمان کو معاف نہ کیا جائے تو پھر پکے دہشت گرد بن جائیں گے۔

اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو رعایت نہیں دی جاسکتی، اگر دہشت گردوں کو معاف کر دیا تو فساد فی الارض کا خطرہ ہے، اسلام بھی فساد فی الارض سے روکتا ہے،حق اور رعایت میں فرق ہوتا ہے جبکہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو رعایت کا کوئی حق نہیں، ریاست کی صوابدید ہے کہ کسی ملزم کی سزا میں کمی کرے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا ہمیں فساد فی الارض سمیت مختلف معاملات پر معاونت چاہئے،بعد ازاں عدالت نے فساد فی الارض پر معاونت کیلئے عدالتی معاون مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔

Comments are closed.

Scroll To Top