سب نے فیکٹریاں بند کرکے پیسہ فلیٹوں اور سوسائٹیوں میں لگادیا،چیف جسٹس

کراچی سپریم کورٹ رجسٹری میں بہادر آباد میں پارک کی زمین پر الباری ٹاور اور دیگر تعمیرات کا معاملہ،پلاٹس کی قانونی حیثیت سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کا حکم۔ پلاٹس کا اوریجنل ماسٹر پلان، لے آئوٹ پلان بھی پیش کرنے کا حکم۔ سپریم کورٹ کا کمیونٹی سینٹر کی سرگرمیاں، شادیاں اور پارکنگ بھی بند کرنے کا حکم۔

بہادر آباد میں پارک کی زمین پر الباری ٹاور اور دیگر تعمیرات کے معاملہ پر سماعت ہوئی،وکیل کراچی یونین کو آپریٹیو سوسائٹی نے بتایا کہ الریاض سوسائٹی کو 660 مربع گز زمین الاٹ کی گئی تھی، مجموعی طور پر ایک پلاٹ 11666 اور دوسرا پلاٹ 11700مربع گز کا ہے جسے تقسیم کیا گیا، پلاٹ نمبر 21-B گیارہ ہزار مربع گز پر پارک اور اسکول ہے، پلاٹ 23-D پر شادی ہال ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کے پاس کیا اختیار تھا الاٹمنٹ کا ؟ جس پر جنید ماگڈا نے کہا کہ ہمیں یہ زمین وزارت ورکس نے دی تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ منسٹری آف ورکس نے تو کڈنی ہل کی زمین بھی اٹھا کر دے دی تھی، منسٹری ورکس کی بات نہ کریں وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں،چیف جسٹس نے سیکریٹری ورکس سے کہا کہ آپ کی منسٹری میں جو کام جاتا ہے اپروو ہوکر آجاتا ہے۔ آپ کی منسٹری میں ہے گڑبڑ ہے۔

سماجی کارکن امبر علی بھائی نے بتایا کہ یہ ساری پارک کی زمین کے جسے تقسیم کرکے پلاٹنگ کی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اسکول کے علاوہ تمام سرگرمیاں فوری بند کردیں، کراچی میں جتنے اوپن اسپیس اور رفاہی پلاٹ تھے سب الاٹ کردیئے گئے، شہر کو مکمل ڈس لوکیٹ کردیا ہے، سندھی مسلم میں چلنے کی جگہ نہیں ہے،جب سے یہ کام شروع ہوا ہے سب نے فیکٹریاں بند کرکے پیسہ فلیٹوں اور سوسائٹیوں میں لگادیا،گھروں میں کارخانے اور فیکٹریاں تھیں سب ختم ہوگیا، لوگ دوسرے کاموں میں پڑ گئے اب ہر سڑک پر دکانیں اور شاپنگ سینٹرز بن گیے، ہر کارنر پر پوری پوری مارکیٹیں ہیں، اب ہر کوئی گھر پر بیٹھ کر زمین اور مکان میں پیسہ لگاتا ہے اور پوری معیشت اس پر منتقل ہوگئی ہے،ہم اس دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے، سائٹ ایریا جاکر دیکھیں ساری فیکٹریاں بند ہوگئیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More