ملٹری لینڈ:بتایا جائےکمرشل سرگرمیاں ختم کرنےکی کیا پالیسی ہے،چیف جسٹس

کراچی سپریم کورٹ رجسٹری میں ملٹری لینڈ پر کمرشل سرگرمیوں کا کیس سیکریٹری دفاع سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ کا ملٹری لینڈ پر جاری کمرشل سرگرمیوں سے متعلق پالیسی پیش کرنے کا حکم ۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ سیکریٹری صاحب یہ کیا ہورہا ہے سنیما اور رہائشی پروجیکٹس چلارہے ہیں آپ ؟ جس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ مسلح افواج نے فیصلہ کیا ہے کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھ ہوگیا ہے اس کا کیا ہوگا یہ کیسے ٹھیک کریں گے،بتایا جائے کمرشل سرگرمیاں ختم کرنے کی کیا پالیسی ہے۔ تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی دستخط سے رپورٹ اور پالیسی پیش کی جائے ۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ اسلام آباد میں بیٹھتے ہیں یہاں بیٹھے ایک کرنل اور میجر کو کنٹرول نہیں کرسکتے، وہ اس علاقے کا کنگ بنا ہوا ہے،بعض اوقات تو لگتا ہے عدالتی حکم کا مذاق اڑا رہے ہیں، عسکری فور دیکھیں بڑے بڑے اشتہار لگادیئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیکرئٹری دفاع صاحب یہ سن لیں اور تحریری بیان دیں، پالیسی بتائیں ہمیں اور بتائیں زمین کی حیثیت تبدیلی کا کیا جواز ہے، سماعت 30 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More